Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan
کے دِل سے یہ محبّت نِکال نہیں سکتی۔
فرشتے بھی ولیوں سے محبّت کرتے ہیں
ابھی ہم نے حدیثِ پاک سُنی، اللہ پاک جس بندے سے محبّت فرما لیتا ہے، پہلے اِس محبّت میں حضرت جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام کو شامِل کیا جاتا ہے، اُنہیں حکم ہوتا ہے: اے جبریل! میں فُلاں بندے سے محبّت کرتا ہوں، تم بھی اُس سے محبّت کرو!
یہ پہلا نکتہ ہے، اِس سے پتا چلا کہ اللہ پاک کی محبّت کے ساتھ ساتھ اُس کے محبوبوں سے بھی محبّت ہوناضروری ہے۔ اِس کا باقاعِدہ حکم دیا جا رہا ہے۔ پِھر اُس بندے کی محبّت اِنسانوں کے دِلوں میں ڈالنے سے پہلے آسمان کے فرشتوں کو حکم ہوتا ہے: تم سب بھی اِس بندے سے محبّت کرو! اِس لئے کہ اللہ پاک اِس سے محبّت فرماتا ہے۔
پتا چلا؛اَوْلیائے کرام سے محبّت کرنا اللہ پاک کی بھی سُنّت ہے، جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام کی بھی سُنّت ہے اور تمام کے تمام فرشتوں کی بھی سُنّت ہے۔قرآنِ کریم میں ہے، فرشتے اللہ پاک کے نیک بندوں سے کہتے ہیں:
نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ- (پارہ:24 ، حم سجدہ:31)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ہم دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں تمہارے دوست ہیں۔
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا؛ فِرشتے اللہ پاک کے نیک بندوں سے، اَوْلیِائے کرام سے محبّت کرتے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں بھی اَوْلیائے کرام سے محبّت نصیب فرمائے۔
تمہارا فضل ہے جو میں غلامِ غَوث و خواجہ ہوں نہ ہو کم اولیا کی دِل سے اُلْفَتْ یارسولَ اللہ