Khwaja Huzoor Ka Faizan

Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan

بہت سارے لوگ ہم سے محبّت کرتے ہیں اور ہم بھی بہت ساروں سے محبّت کرتے ہیں، ہمارے والدین کو ہم سے محبّت ہے، ہمیں اُن سے محبّت ہے، ہماری اَوْلاد ہم سے محبّت کرتی ہے، ہم اپنی اَوْلاد سے محبّت کرتے ہیں، اِس محبّت کی وجہ کیا ہے؟ ہمارا خُون۔ اُن سے چونکہ خُونی رشتہ ہے، لہٰذا محبّت ہے۔

اللہ پاک کی شان دیکھئے! مثلاً خواجہ حُضُور رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کےساتھ ہمارا کوئی خُونی رشتہ نہیں ہے *ہم نے آپ کی زیارت نہیں کی *اُن کی صحبت میں حاضِری کی سَعَادت نہیں پائی *اُن کا پیارا پیار اکلام نہیں سُنا۔ اِس کے باوُجُود اُن سے محبّت ہے۔ دِلوں میں عقیدت ہے۔ آخر کیوں؟ اس لئے کہ

سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶) (پارہ:16، مریم:96)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبّت پیدا کر دے گا۔

اللہ پاک نے اُن کی محبّت دِلوں میں پیدا فرما دی ہے۔

دِلوں میں ولیوں کی محبّت کیسے ڈالی جاتی ہے

حدیثِ پاک کی مشہور کتاب مسلم شریف میں حدیثِ پاک ہے، ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب اللہ پاک کسی بندے سے محبّت فرماتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حکم دیتا ہے: اِنِّی اُحِبُّ فُلَاناً فَاَحِبَّہٗ یعنی (اے جبریل! )میں فُلاں بندے سے محبّت کرتا ہوں، تم بھی اُس سے محبّت کرو!

پس حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اُس بندے سے محبّت کرنے لگتے ہیں، پِھر یہ محبّتوں کا سِلسلہ یہیں پر رُکتا نہیں ہے بلکہ ثُمَّ یُنَادِی فِیْ السَّمَآءِ پِھر آسمانوں میں اِعْلان کر دیا جاتا ہے: