Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan
اس میں جتنی ترقی کرتا چلا جائے گا، اُس کا ایمان جتنا مضبوط ہو گا، نیک کاموں میں جتنا زیادہ اِخْلاص اپناتا جائے گا، اسے اُتنے ہی زیادہ درجات ملتے چلے جائیں گے۔ قرآنِ کریم میں ایسے بندے کے بہت سارے فضائِل بیان ہوئے، اس جگہ پارہ:16، سورۂ مریَم، آیت:96 میں ایک خاص فضیلت ارشاد ہوئی، فرمایا:
سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶)(پارہ:16، مریم:96)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبّت پیدا کر دے گا۔
سُبْحٰنَ اللہ! معلوم ہوا؛ وہ لوگ جنہوں نے ایمان قبول کیا، ایمان کے بلند ترین مقام تک پہنچے، ساری زندگی اُن کا ایمان، اُن کا عقیدہ ہر عیب سے، ہر کمی سے پاک رہا، وہ اِیمان کے لحاظ سے بھی کامِل ہوئے، عقیدے کے لحاظ سے بھی کامِل ہوئے، پِھر اِس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے نیک اَعْمال بھی خُوب کئے، اُنہوں نے اپنی پُوری زِندگی اللہ پاک کی کامِل بندگی میں گزاری، اُن کی یہ شان ہے کہ اللہ پاک خُود بھی اُن سے محبّت فرماتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ لوگوں کے دِلوں میں بھی اُن کی محبّت رکھ دی جاتی ہے۔
روایت ہے، مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا رَضِیَ اللہُ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! اللہ پاک کا یہ جو فرمان ہے:
سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶) (پارہ:16، مریم:96)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: عنقریب رحمٰن ان کے لیے محبّت پیدا کر دے گا۔
اس کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: اے علی! جو اِیمان لاتا اور نیک اعمال کرتا ہے، اللہ