Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan
میں پڑھنے سے 25 دَرَجے افضل ہے۔([1])
اور ایک حدیثِ پاک میں ہے: نماز باجماعت تنہا پڑھنے سے 27 دَرجے بڑھ کرہے۔([2])
اے عاشقانِ رسول ! فرض کیجئے کہ کسی کے پاس تجارت کا سامان ہے، اگر وہ اِسے اپنے شہر میں فروخت کرے تو اُس کی قیمت 100 روپیہ لگے اور اگر سمندر پار جا کر وہی سامان فروخت کرے تو 2500یا2700 روپے میں بک(Sell) جائے تو وہ یقینا سمندر پار جا کر ہی اپنا مال بیچنا پسند کرے گا کہ 25 گُنا یا 27گُنا نفع کون چھوڑے! افسوس! دنیا کی دولت بڑھانے کے لئے تو دُور دُور کا سفر کرنے کے لئے لوگ تیار ہو جاتے ہیں مگر گھر سے صرف چند قدم چل کر مسجد میں باجماعت نماز پڑھ کر ایک نماز پر 27 نمازوں کا ثواب کمانے میں بعض لوگ سستی کر جاتے ہیں اور گھروں ہی میں نماز ادا کرلیتے ہیں ۔
بھائی مسجد میں جماعت سے نمازیں پڑھ سدا
ہوں گے راضی مصطفےٰ، ہو جائے گا راضی خدا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حُضُور خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حِصّہ سَفَر میں گزارا، ایک مرتبہ آپ نِیْشَاپُور کے کسی گاؤں میں پہنچے، عصر کا وقت ہونے والا تھا، آپ نے دیکھا کہ وہاں ایک مسجد ہے مگر یہ دیکھ کر آپ کو بہت افسوس ہوا کہ مسجد بند ہے، صفائی ستھرائی بھی نہیں ہے، یُوں لگ رہا تھا گویا برسوں سے یہاں کسی نے نماز نہیں پڑھی۔