Book Name:Khwaja Huzoor Ka Faizan
کرتے رہتے ہیں، دُور دراز عِلاقوں میں جانا ہوتا ہے، کئی دفعہ مسجدیں وِیْران ہوتی ہیں، عاشقانِ رسول مسجدوں کو آباد کرتے ہیں۔
عاشقانِ رسول کا ایک قافلہ سُنّتوں کی تربیت کی غرض سے اندرونِ سندھ گیا۔ جب قافلے والے اُس گاؤں میں پہنچے تو دیکھا کہ مسجد میں تالا لگا ہوا ہے۔ لوگوں سے معلومات کرنے کے بعد جب اِس مسجد کو کھولا گیا تو قافلے والے يہ دیکھ کر انتہائی غمگین ہو گئے کہ طویل عرصہ سے صفائی نہ ہونے کے سبب مسجد میں ہر طرف گردو غُبار پھیلا ہوا ہے اور دیواروں پر مکڑی کے بڑے بڑے جالے نظر آرہے ہیں۔ قافلے والوں نے وہاں کے لوگوں سے نہایت افسُردہ لہجے میں پوچھا: مسجد کب سے بند ہے؟ تو اُنہیں بتایا گیا : عرصہ دراز سے، کیونکہ لوگوں نے نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیا، لہٰذا امام صاحب بھی یہاں سے چلے گئے اور اب لوگ دنیاداری میں مصروف ہیں چنانچہ نمازیوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد کو تالا لگا دیا گیا ہے۔ جبکہ اِس علاقے میں اکثر دُکانوں پر گانے باجے اور فلمیں دِکھانے کا سلسلہ سرِ عام جاری تھا۔([1])
اللہ پاک ہمیں مسجدیں آباد کرنے کی سَعَادت نصیب فرمائے۔ ہم بھی قافلوں میں سَفَر کی عادَت بنا لیں تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! نیک لوگوں کے طریقے اپنانے کی سعادت نصیب ہو گی۔
پیارے اسلامی بھائیو! حُضُور خواجہ غریب نواز رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ساری زندگی نیکیاں