Book Name:Aj Le Un Ki Panah
جو غیر مُسْلم ہو گا، وہ کٹ کر جہنّم کی گہرائی میں جا گِرے گا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کلمہ پڑھنے والے مسلمان کی بھی کیا شان ہے...!! وہ بال سے باریک، تلوار کی دَھار سے تیز پُل صِراط، جس پر سے ہر ایک کو گزرنا ہی گزرنا ہے، جب غیر مُسْلم اس پر سے کَٹْ کَٹْ کر جہنّم میں گِر رہے ہوں گے، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! بندۂ مؤمن اس پر سے سلامتی کے ساتھ گزر جائے گا۔ اِمامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ لکھتے ہیں نا
پائے کوباں پُل سے گزریں گے تری آواز پر رَبِّ سَلِّم کی صدا پر وَجْد لاتے جائیں گے([2])
وضاحت:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم!آپ کے دیوانےپُل صراط سے آپ کی رَبِّ سَلِّم کی صدا پر وَجد کرتے، ایڑیاں مارتے، کیف و مستی کے عالَم میں گزر جائیں گے۔
حضرت جابِر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں: ایک دِن ہم بارگاہِ رسالت میں حاضِر تھے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے زمین پر ایک خَط کھینچا، پِھر اُس کے دائیں، بائیں 2، 2 خط کھینچے، پِھر (ان دائیں بائیں والے خطوط کے متعلق) فرمایا: هَذَہٖ سُبُلُ الشَّيْطَانِ یعنی یہ شیطان کے رستے ہیں۔ پِھر درمیان والے خَط پر ہاتھ مبارَک رکھا اوریہ آیت تلاوت کی:([3])
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ- (پارہ:8، الانعام:153)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے تو اِس پر چلو۔