Book Name:Aj Le Un Ki Panah
پیارے اسلامی بھائیو! اِن آیات، احادیث اور روایات میں صاف صاف اِرشاد ہو گیا کہ نَجات کا رستہ صِرْف یہ ہے کہ آدمی دامنِ مصطفےٰ سے لِپَٹْ جائے، آپ کا کلمہ پڑھ کر پناہِ مصطفےٰ میں آجائے *اِسی میں بہتری ہے *اِسی میں ترقی ہے *اِسی میں نَجات اور آخرت کی کامیابی ہے۔
سیدی اعلی حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:
جان دے دو وعدۂ دیدار پر نقد اپنا دَام ہو ہی جائے گا
سائلو! دامن سخی کا تھام لو کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا
مفلسو! اُن کی گلی میں جا پڑو باغِ خُلْد اِکْرام ہو ہی جائے گا([1])
وضاحت:اے عاشقانِ رسول ! دیدار کے وعدہ پر جان پیش کر دو! اپنا دام وصول ہو جائےگا، اے فقیرو! سخی داتا کے دامن کو مضبوطی سے تھام لو، کچھ نہ کچھ اِنعام فرما دیں گے،اے مفلسو! محبوبِ خُدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے دَرْ پر بیٹھے رہو، جنَّت کا باغ عنایت ہو ہی جائے گا۔
اِیمان پر مَوت کی کسی کے پاس ضَمانت نہیں
اللہ پاک کا کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں انسان بنایا، مسلمان کیا اور اپنے حبیب ِ مکرَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا دامنِ کرم ہمارے ہاتھوں میں دیا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مسلمان ہیں، مگر ہم میں سے کسی کے پاس اِس بات کی کوئی ضَمانت نہیں کہ وہ مرتے دم تک مسلمان ہی رہے گا۔ جس طرح بے شُمار غیر مُسْلم خوش قسمتی سے مسلمان ہو جاتے ہیں اِسی طرح کئی ایک بدنصیب مسلمانوں کا مَعاذَاللہ! غیر مسلم ہو کر مرنا بھی ثابِت ہے۔ اور