Aj Le Un Ki Panah

Book Name:Aj Le Un Ki Panah

سے قیامت تک نَجات کا رستہ صِرْف دِیْنِ مصطفےٰ یعنی اِسْلام ہے۔

اِسْلام کے فضائل

پیارے اسلامی بھائیو! الحمد للہ! ہم مسلمان ہیں، ہم پیارے مَحْبُوب  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کا کلمہ پڑھنے والے ہیں، دُعا کرنی چاہئے کہ اللہ پاک ہمیں اِس پیارے دِین پر اِستقامت نصیب فرمائے *الحمد للہ! یہ وہ دِین ہے، جس کے ذریعے دامنِ مصطفےٰ ہاتھ آتا ہے *یہی وہ دِین ہے، جس کی بدولت ہدایت ملتی ہے *اِسی دِینِ مصطفےٰ کے ذریعے اللہ پاک کا قُرب ملتا ہے *اِسی دِینِ مصطفےٰ کے ذریعے دِل میں نُور آتا ہے *اِسی دِینِ مصطفےٰ کے ذریعے کردار سَنورتا، اَخْلاق نکھرتے ہیں *اسی دِین کے ذریعے قبر روشن ہو گی *اِسی کے ذریعے میدانِ محشر میں نَجات ملے گی *اسی کے ذریعے پُل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزرنا نصیب ہو گا اور *اِسی دِینِ مصطفےٰ کی بدولت ہی جنّت نصیب ہو گی۔

آگ نے چادر نہ جلائی

ایک بُزُرْگ ہوئے ہیں: حضرت ابراہیم آجُرِّی  رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ۔ ایک دِن آپ تَنْدُور جلا رہے تھے، اتنے میں بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا ایک غیر مسلم وہاں آ گیا۔ آپ نے اُسے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اَسْلِمْ فَلَا تَدْخُلِ النّارَ یعنی مسلمان ہو جا...!! جہنّم کی آگ سے بچ جائے گا۔ غیر مُسْلِم بولا: اگرچہ آپ مسلمان ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، البتہ! جہنّم کے مُعَاملے میں تو میں اور آپ برابر ہیں، آگ میں تو آپ نے بھی جانا ہے، میں نے بھی جانا ہے۔ آپ ہی کی کِتَاب (یعنی قرآنِ کریم ) میں ہے:

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ- (پارہ:16، مریم:71)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور تم میں سے ہرایک دوزخ پر سے گزرنے والاہے۔