Aj Le Un Ki Panah

Book Name:Aj Le Un Ki Panah

بُرے خاتمے کے اسباب

پیارے اسلامی بھائیو! راہِ نَجات صِرْف و صِرْف اسلام ہی ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اَپنے دِین، اَپنے اِیمان کی حفاظت کریں اور ہر ایسے کام سے بچیں جو بُرے خاتمے کا سبب بن سکتا ہو، بعض علَمائے کرام  رحمۃُ اللہِ علیہم  فرماتے ہیں : بُرے خاتمے کے 4 اسباب ہیں: (1):نماز میں سُستی (2):شراب نوشی (3):والِدین کی نافرمانی(4):مسلمانوں کو تکلیف دینا۔([1])

 جو اِسلامی بھائی مَعَاذَ اللہ!نماز نہیں پڑھتے یا قضا کرکے پڑھتے ہیں، اپنی کوتاہی کے باعث نمازِ فجر کے لئے نہیں اُٹھتے یا بلاشرعی مجبوری کے مسجد میں باجماعت پڑھنے کے بجائے گھر ہی پرنماز پڑھ لیتے ہیں اُن کے لئے لمحۂ فکریہ ہے ! کہیں نَماز میں سُستی بُرے خاتمے کا سبب نہ بن جائے ۔ اِسی طرح شراب خور، ماں باپ کا نافرمان اور مسلمانوں کو اپنی زَبان یا ہاتھ وغیرہ سے تکلیف دینے والا سچّی توبہ کرلے ۔

اَمیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری   دَامَت بَرَکاتُہمُ العالیہ   نے اپنے رسالے بُرے خاتمے کے اَسباب میں اِیمان برباد ہو جانے کے اور بھی اسباب لکھے ہیں، مثلاً *چُغلی کھانا بُرے خاتمے کا سبب ہے *شراب پینا بُرے خاتمے کا سبب ہے *حسد کرنا (یعنی دوسروں کے پاس نعمت دیکھ کر جلنا اور ان سے نعمت چھن جانے کی تمنّا کرنا) بھی بُرے خاتمے کا سبب ہے *بدنگاہی بھی بُرے خاتمے کاسبب ہے *فرض ہونے کے باوُجود حج ادا نہ کرنا *اذان ہو رہی ہو تو باتوں میں مصروف رہنا *ناپ تول میں ڈَنڈی مارنا بھی بُرے خاتمے کے اسباب میں سے ہیں۔([2])

 اللہُ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! یہ وہ گُنَاہ ہیں جو آج ہمارے مُعَاشرے میں عام ہوتے


 

 



[1]... شرحُ الصُّدور، باب علامۃ خاتمۃ الخیر، صفحہ:28۔

[2]... بُرے خاتمے کے اسباب، صفحہ:8 تا23 ملتقطاً۔