Book Name:Aj Le Un Ki Panah
صَدَقہ حاضِر ہو کر عرض کرے گا: اے اللہ پاک! میں صدقہ ہوں، اِرشاد ہو گا: تم بھلائی پر ہو *پِھر روزے کی حاضِری ہو گی، اِرْشاد ہو گا: تم بھلائی پر ہو۔ یُونہی تمام اَعْمال باری باری بارگاہِ خُداوندی میں حاضِر ہوں گے، سب کو یہی ارشاد ہوگا: تم بھلائی پر ہو۔ آخر میں اِسْلام حاضِر ہو گا، عرض کرے گا: یَا رَبِّ اَنْتَ السَّلَامُ وَ اَنَا الْاِسْلَامُ یعنی اے اللہ پاک تیرا پاک نام اَلسَّلام ہے اور میں اِسْلام ہوں۔ اللہ پاک اِرْشاد فرمائے گا: اِنَّكَ عَلٰى خَيْرٍ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ، وَبِكَ اُعْطِي بیشک تُو بھلائی پر ہے (اے اِسْلام!) آج جس کی بھی پکڑ ہو گی، تیرے ہی سبب (یعنی تیرے اِنْکار ہی کی وجہ سے) ہو گی اور جس کو جو عطا ہو گا، تیری ہی بدولت ہو گا۔([1])
اگر مُوسیٰ عَلَیْہ ِالسَّلام بھی تشریف لے آئیں
حدیثِ پاک میں ہے: ایک مرتبہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت فارُوقِ اَعْظم رَضِیَ اللہُ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، اُن کے ہاتھ میں پچھلی آسمانی کِتَاب تَورات شریف کا ایک نُسْخہ تھا۔ آپ مَحْبُوبِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے پاس بیٹھ کر تَوْرات شریف پڑھنے لگے۔ اِدھر یہ تَوْرات پڑھنے میں مَصْروف تھے، اُدھر جَلال کی وجہ سے مَحْبُوبِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو رہا تھا۔ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت اَبُوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عنہ نے جلالِ مصطفےٰ دیکھا تو فاروقِ اَعْظم رَضِیَ اللہُ عنہ سے فرمایا: عُمر! چہرۂ پُرنُور کو تو دیکھو...!! فاروقِ اَعْظم رَضِیَ اللہُ عنہ نے جیسے ہی چہرۂ مصطفےٰ کی طرف دیکھا، جلال کی کیفیت مُلاحظہ کی تو لرز گئے۔ فورًا تَوْرات کو بند کیا، بارگاہِ رسالت میں مُعَافی کے طلب گار ہوئے۔ اِس پر پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے