Book Name:Aj Le Un Ki Panah
گا ۔ اور (3):3بار صبح اور 3بار شام اِس دُعا کا وِرْد رکھیں :
اَللّٰھُمْ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِکَ شَیْأً نَعْلَمُہٗ، وَنَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَانَعْلَمُ۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! آئیے! آخِر میں ایک ایمان اَفْروز حدیثِ پاک سن لیتے ہیں: صحابئ رسول حضرت اَبُو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں:میں نے اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمت میں عرض کیا:یَا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! قیامت کے دِن آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شفاعت سے حِصّہ پانے والے خوش نصیب لوگ کون ہوں گے؟ فرمایا:اے اَبُو ہریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ تم سے پہلے مجھ سے یہ بات کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں حدیث سُننے کے معاملہ میں تمہاری حِرْص(یعنی شوق و ذوق) کو جانتا ہوں، (پھر فرمایا: اے اَبُوہریرہ!) قیامت کے دِن میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہو گا جو سچّے دِل سے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہے (یعنی مجھ پر اور میرے لائے ہوئے دِین پر ایمان رکھتا ہو) گا۔([2])
حَسْبِیْ رَبِّی جس نے کہا، فیض کے دریا کو پایا
گوہرِ مقصد ہاتھ آیا، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ
کُھل جائیں دَر جنّت کے، دوزخ کی سب آگ بجھے
دِل سے کوئی اِکْ بار کہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ