Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
عاصیوں کی مغفِرت کا لیکر آیا ہے پَیام جھوم جاؤ مجرِمو! رَمضاں مہِ غُفران ہے([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ایک بہت خُوبصُورت واقعہ سنئے! بیان کیا جاتا ہے: کچھ لوگ سمندر میں بحری جہاز کے ذریعے سَفَر کر رہے تھے۔ اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں، جہاز ہِچکولےلینے لگا، مُسَافِروں کے دِل پر خوف طاری ہو گیا، کلمہ درود اور دُعائیں وغیرہ ہونے لگیں، دِل تیزی سے دھڑک رہے تھے، سب کو یہی خوف تھا کہ آہ! ہم بیچ سمندر میں غرق ہو کر موت کے گھاٹ اُتَر جائیں گے۔ ایک طرف تو جہاز میں ایسا کہرام مچا ہوا تھا، وہیں ایک مَجْذوب (یعنی عشقِ اِلٰہی میں ڈوبا ہوا) بزرگ ہر چیز سے بےنیاز ہو کر جہاز کے ایک کونے میں آرام سے سَوئے ہوئے تھے۔ ایک مُسَافِر نے جب اُنہیں دیکھا تو قریب گیا، انہیں ہِلایا، اچانک سے آنکھ کھلی تو انہوں نے جلدی سے پڑھا:
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْ السَّمَاءِ
ترجمہ: اللہ پاک کے نام سے، جس کے نام کی بَرَکت سے زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔
مُسَافِر نے کہا: اے بندۂ خُدا...! کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس مصیبت میں گرفتار ہیں، آپ پِھر بھی آرام سے سَو رہے ہیں۔ وہ مَجْذوب بزرگ خاموش رہے، زبان سے کچھ بھی نہ کہا، پِھر ایک کاغذ نکالا اور مُسَافِر کو دیتے ہوئے کہا: یہ کاغذ لَو اور جہاز کے اُوپَر