Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
یہاں دیکھئے! خِطاب ایمان والوں کو ہے اور حکم دِیا جا رہا ہے: ایمان رکھو! وہ پہلے سے ایمان والے ہیں، پِھر اب ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ عُلَمائے تفسیر اس کی وضاحت فرماتے ہیں: اِزْدَادُوْا فِی الْاِیْمانِ یعنی معنیٰ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرو!([1]) *کلمہ تو پڑھ لیا، اب اس پر اِستقامت کے ساتھ قائِم بھی رہو! *کلمہ تو پڑھ لیا، اب اس کے تقاضوں پر بھی عَمَل کرو! *کلمہ تو پڑھ لیا، اب ایمان کے شعبے بہت سارے ہیں، ان شعبوں کو بھی اختیار کرو! * کلمہ تو پڑھ لیا، اب ایمان میں مزید سے مزید ترقی کرتے چلے جاؤ! * کلمہ تو پڑھ لیا، اب اپنے ایمان کے کمال کی فِکْر میں لگ جاؤ!
یہ شہادت گہِ اُلفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
وضاحت: یعنی دائرۂ اِسْلام اللہ و رسول کی محبّت میں تَن، مَن، دَھن کی بازی لگا دینے کی جگہ ہے، یہ وہ میدان ہے جہاں پہنچ کر سب کچھ رَبّ کے نام پر قُربان کرنا ہوتا ہے، لوگ اِسے آسان سمجھتے ہیں۔
ہم اگر غور کریں تو ہم میں سے زیادہ تَر صِرْف اس لئے مسلمان ہیں کیونکہ مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے تھے، یہ بھی اللہ پاک کی بہت بڑی عنایت ہے، اس نے مسلمان گھرانے میں پیدا فرما دیا، بچپن ہی سے کلمہ نصیب ہو گیا۔ غیر مُسْلِم گھرانے میں پیدا ہوتے تو نہ جانے کہاں ذلیل و خوار ہوتے۔ یہ اُس کا کرم ہے۔
مگر سوچنے کی بات ہے، مثال کے طَور پر ایک آدمی ہے، اسے اپنے والِد کی وِراثت