Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
صحابی اِبْنِ صحابی حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہما فرماتے ہیں : ایک روز ہم پیارے آقا، مکی مَدَنی مُصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خدمت میں حاضِر تھے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام علیہم الرّضوان سے ایک سُوال پوچھا، فرمایا:اِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَّا يَسْقُطُ وَرَقُهَا،وَ اِنَّهَا مَثَلُ المُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ؟ یعنی درختوں میں سے ایک درخت ہے، اس کے پتے نہیں گِرتے، اس کی مثال مسلمان جیسی ہے، بتاؤ وہ کونسا درخت ہے ؟ اب صحابۂ کرام علیہم الرّضوان سوچنے لگے(کہ وہ کونسا ایسا درخت ہو سکتا ہے جس کے پتّے بھی نہیں گِرتے اور اس کی مثال مسلمان جیسی ہے، کوئی کچھ سوچ رہا تھا، کوئی کچھ سوچ رہا تھا)۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہما فرماتے ہیں : میرے ذہن میں اس سوال کا جواب آ گیا(مگر میں چھوٹا بچہ تھا، مجھ سے بڑی عمر کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عنہ م موجود تھے ان کی) حیا کی وجہ سے میں نے جواب نہ دیا، بالآخر پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے خود ہی فرمایا:هِيَ النَّخْلَةُ یعنی یہ کھجور کا درخت ہے۔([1])
عُلَما فرماتے ہیں : کھجور کا درخت سراپا خیر اور بھلائی ہے، اس کا ہر ہر جُزْ، ہر ہر حصّہ نفع بخش، فائدے مند ہے(مثلاً*کھجور کے پتّوں سے چٹائیاں بنتی ہیں، اِن سے رَسِّی بھی بنائی جاتی ہے، پہلے دَور میں کھجور کے پتوں سے روٹی رکھنے کے لئے چھابے بھی بنائے جاتے تھے اور اب بھی بعض علاقوں میں یہ رواج ہے* اسی طرح کھجور کی چھال آگ جلانے کے بھی کام آتی ہے، پہلے دور میں اسے روئی کی جگہ تکیے بھرنے میں بھی استعمال کیا جاتا تھا*کھجور کا تنا ستُون بنانے کے کام آتا، پہلے دور میں اسے چھتوں میں گاڈر کی جگہ بھی استعمال کیا جاتا تھا*اسی طرح کھجور کی گٹھلی کے بھی بہت فائدے