Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
اللہ پاک کی مدد آ پہنچی
ان صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کا یہی کامِل اِیْمان، یہ جوشِ ایمانی، جذبۂ جاں نثاری ہی تھا کہ جب یہ جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اللہ و رسول کی فرمانبرداری میں آ گئے تو اللہ پاک نے فرشتوں کی مدد اُتار دی۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ- (پارہ:4، آل عمران:123)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور بیشک اللہ نے بدرمیں تمہاری مدد کی جب تم بلکل بے سرو سامان تھے
اللہ پاک نے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی ثابت قدمی اور دِل کی تسلی کے لئے 5 ہزار فِرشتوں کی مدد نازِل فرمائی۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے 2مسئلے حل ہوتے ہیں:
(1):بندوں کی مدد اللہ پاک ہی کی مدد ہے
پہلی بات تو یہ غور فرمائیے! بدر میں مدد کے لئے کون آئے؟ اللہ پاک کے فرشتے اور اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ (پارہ:4، آل عمران:123)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی۔
یعنی مدد کے لئے آئے فرشتے تھے،([1]) اللہ پاک فرماتا ہے: یہ مدد فرشتوں کی نہیں بلکہ میری (ربُّ الْعَالَمِیْن کی) ہے۔ پتا چلا؛ اللہ پاک کے بندوں کا مدد کرنا، اَصْل میں اللہ پاک ہی کا مدد کرنا ہے۔