Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
رکھ آؤ...!! وہ مُسَافِر کہتا ہے: میں نے ان کی بات مانی اور وہ کاغذ جہاز کے اُوپَر رکھ دیا۔ جیسے ہی میں نے یہ کام کیا، اللہ پاک نے میری آنکھوں سے پردے ہٹا دئیے! کیا دیکھتا ہوں کہ کئی لوگ ہیں، جو جہاز کو ایک طرف سے پکڑ کر خشکی کی طرف کھینچ رہےہیں۔ اس دِن طوفان اتنا تیز تھا کہ کئی بحری جہاز اس کا مقابلہ نہ کر سکے اور ٹوٹ پُھوٹ کر سمندر میں غرق ہو گئے مگر ہم پر کرم ہوا، اُن غیبی بزرگوں نے ہمارے جہاز کو کھینچ کر خشکی تک پہنچا دیا۔ وہ مُسَافِر کہتا ہے: میں بڑا حیران تھا، جب میں نے وہ کاغذ اُٹھایا، دیکھا تو اس میں بدری صحابۂ کرام علیہم الرّضوان کے نام لکھے ہوئےتھے۔
اَلحمدُ لِلّٰہ! ان پاکیزہ ناموں کی برکت سے ہماری جان بچ گئی، اگلے دِن ہم ان ناموں کا وظیفے کرتے ہوئے جہاز میں سوار ہوئے اور یہی نام پڑھتے پڑھتے خیر و عافیت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔([1])
جاں نثارانِ بدر و اُحُد پر درود حق گزارانِ بیعت پہ لاکھوں سلام([2])
وضاحت:غزوۂ بَدَر و اُحُد میں دِین کے لئے جانیں قربان کرنے والوں پر درود ہوں، بیعتِ رضوان کا حق ادا کرنے والے صحابہ پر لاکھوں سلام ہوں۔
پیارے اسلامی بھائیو! غزوۂ بدر تاریخِ اسلام کا عظیم تَرِین معرکہ ہے، یہ اِسلامی تاریخ کی پہلی لڑائی ہے جو حق اور باطِل کے درمیان ہوئی، اَلحمدُ لِلّٰہ! اِس لڑائی میں