Fazail e Badr Paida Kar

Book Name:Fazail e Badr Paida Kar

یعنی اے مسلمانو...!! اے مَحْبُوب   صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے غُلامو...!! غالِب تم ہی رہو گے بس شرط ایک ہے: سچّے اِیمان والے ہو جاؤ! اللہ پاک پر کامِل بھروسا رکھنے والے بن جاؤ...!! یہ ایک شرط پُوری کر لی جائے، اِیمان سچّا اور یقین پختہ کر لیا جائے، اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! مسلمان ہمیشہ غالِب رہے گا۔

شاعِر کہتا ہے:

فضائے بَدْر پیدا کر فِرشتے تیری نُصْرت کو

اُتر سکتے ہیں گَرْدَوں سے قِطار اندر قِطار اب بھی

*آج بھی فرشتوں کی مدد آ سکتی ہے *آج بھی اللہ پاک دُعائیں سُنتا ہے *آج بھی مدد ہوتی ہے *آج بھی ہر میدان میں کامیابی ہمارے قدم چُوم سکتی ہے *آج بھی مسلمانوں کو عروج نصیب ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے فِضَائے بدر تو پیدا کی جائے، جیسے وہ 313 جوشِ ایمانی سے سرشار تھے، جانیں ہتھیلی پر رکھ کر آئے تھے، ایسا جوش، جذبہ اور کامِل ایمان تو دکھایا جائے۔

ٹہنی تلوار بن گئی

روایات میں ہے: ایک صحابی  رَضِیَ اللہُ عنہ  تھے، میدانِ بدر میں غیر مسلموں سے لڑ رہے تھے، لڑتے لڑتے تلوار ٹوٹ گئی، پیارے آقا، مکی مدنی مُصطفےٰ  صلّی اللہ  عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کی خِدْمت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسولَ اللہ  صلّی اللہ  عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! تلوار ٹوٹ گئی ہے۔ آپ  صلّی اللہ  عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم