Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
ہیں، اسے جانوروں کی خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے، اسے پیس کر استعمال کریں، طِبّی طَور پر بہت فائدے مند ہے*باقی رہی کھجور؛ وہ تو نہایت فائدے مند پھل ہے *پھلوں میں سب سے زیادہ طاقتور اور زیادہ نفع بخش پھل کھجور کو مانا جاتا ہے *دمے، دِل، جگر، گردے، مثانے، پِتّے اور آنتوں کے امراض میں کھجور فائدہ مند ہے *یہ بلغم نکالتی اور مُنہ کی خشکی دور کرتی ہے۔غرض کھجور کے درخت کے فائدے ہی فائدے ہیں)، اسی طرح بندۂ مؤمن کی بھی یہی مثال ہے، بندۂ مؤمن بھی صِرْف و صِرْف نفع بخش ہوتا ہے، اس کا نقصان کوئی نہیں ہوتا۔یہ بَس دوسروں کو فائدے ہی پہنچاتا ہے۔([1])
مدینہ شریف کا ایک خوبصُورت واقعہ
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک مؤمن کی شان ہے، بندۂ مؤمن سراپا خیر ہوتا ہے۔ پہلے کے مسلمانوں میں ایک دوسرے کی خیر خواہی کا جذبہ کُوْٹ کُوْٹ کر بھرا ہوا تھا، امیرِ اہلسنت مولانا محمد اِلیاس عطاؔرقادری دَامَت بَرَکاتُہمُ العالیہ لکھتے ہیں: کسی نے حضرت سیّدی قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدِّین مدنی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ کی بارگاہ میں عرض کیا: یاسیِّدی !پہلے کے (غالِباً ترکوں کے دَور کے ) اہلِ مدینہ کو آپ رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے کیسا پایا؟ فرمایا : ایک مال دَار حاجی صاحب غریبوں میں کپڑا تقسیم کرنے کی نیّت سے خریداری کے لئے ایک کپڑا بیچنے والے کی دُکان پر پہنچے اور مطلوبہ کپڑا کافی مقدار میں طَلَب کیا۔ دُکان دارنے کہا : میں آرڈر پُورا تو کرسکتا ہوں مگر میری دَرخواست ہے کہ آپ سامنے والی دُکان سے خرید لیجئے کیونکہ اَلحمدُلِلّٰہ! آج میری اچھی بِکری ہوگئی ہے، اُس بے چارے پڑوسی دُکان دار کی آمدن کچھ کم ہوئی ہے۔ حضرت سیِّدی قطبِ