Book Name:Fazail e Badr Paida Kar
پتا چلا؛ فرشتوں کی مدد، اللہ پاک ہی کی مدد ہے اور فرشتے کون ہیں؟
عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ(۲۶) (پارہ:17، الانبیاء:26)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: (فرشتے) عزّت والے بندے ہیں۔
تو جن کو اللہ پاک بندہ فرمائے، جب اُن کی مدد، اللہ پاک کی مدد ہے تو جنہیں اللہ پاک اپنا دوست فرمائے؛
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ (پارہ:11، یونس:62)
مَعرفۃ القرآن: سن لو! بیشک اللہ کے اولیا۔
جن کو اللہ پاک نے دوست فرمایا ہے، اُن کی مدد اللہ پاک کی مدد کیوں نہیں کہلائے گی۔ پتا چلا؛ اللہ پاک کے ولیوں سے مدد مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوں؟اس لئے کہ اَوْلیائے کرام کی مدد ان کی اپنی نہیں بلکہ اللہ پاک ہی کی مدد ہے۔
(2):ہماری مدد کیوں نہیں ہوتی...؟
دوسرا مسئلہ جس کا حل ہمیں یہاں سے ملتا ہے، آپ نے بھی سُنا ہو گا؛ بعض دفعہ لوگ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ مسلمان ظُلْم و سِتَم کا شکار ہیں *مہنگائی کمر توڑ رہی ہے *غربت ہے کہ جان ہی نہیں چھوڑتی *مسلمان بھی ہیں، کلمہ بھی پڑھتے ہیں، اس کے باوُجُود زندگی مشکلات سے بھری پڑی ہے *کئی ملکوں میں مسلمان انتہائی مظلومیت کی زندگی گزار رہے ہیں، آخِر اللہ پاک مدد کیوں نازِل نہیں فرماتا...؟ جب میدانِ بدر میں فرشتے اُتر سکتے ہیں تو آج مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتے کیوں نہیں اُترتے...؟ بڑا سادہ سا جواب ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا:
وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳۹) (پارہ:4، آل عمران:139)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور تم ہمت نہ ہارو اور غم نہ کھاؤ، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالِب آؤ گے۔