Fazail e Badr Paida Kar

Book Name:Fazail e Badr Paida Kar

ناموں کا وِرْد کیا کرے، اللہ پاک اسے وِلایَت کا تاج عطا فرما دیتا ہے۔([1])  

اصحاب بدر کو ملی عظمت کمال ہے

عزم اُن کا ہے کمال، عزیمت کمال ہے

اللہ پاک ہمیں اَصْحابِ بدر کی برکتیں نصیب فرمائے۔ غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے ان صحابۂ کرام  علیہم الرّضوان  کے مبارَک نام کتابوں میں لکھے ہیں، انہیں حاصِل کیجئے! *کاغذ وغیرہ پر لکھ کر اپنے پاس رکھئے! *گھر میں رکھئے! *ان پاک ناموں کی برکت سے دُعائیں مانگئے! اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! بےشمار برکتیں نصیب ہوں گی۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صلّی اللہ  عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

اَصْحَابِ بدر کا جذبۂ جاں نثاری

پیارے اسلامی بھائیو! غزوۂ بدر 17 رمضان کو ہوا، یہ بہت حیرت انگیز معرکہ تھا، صِرْف 313 صحابۂ کرام   علیہم الرّضوان   تھے، ہتھیار بھی پاس نہیں تھے، ان 313 کے پاس صِرْف 8 تلواریں تھیں، دِن بھی رمضان شریف کے تھے، کھانے پینے کا سامان بھی زیادہ نہیں تھا، اس کے باوُجُود ان صحابۂ کرام  علیہم الرّضوان  کا جوشِ ایمانی اور جذبۂ جاں نثاری تھا کہ ایک ہزار کے لشکر کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ روایات میں ہے: بدر کے لئے جاتے ہوئے ایک جگہ رُک کر پیارے آقا  صلّی اللہ  عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے صحابۂ کرام   علیہم الرّضوان   سے مشورہ فرمایا کہ کیا کرنا چاہئے! کیا میدانِ بدر میں جائیں یا رُک جائیں؟


 

 



[1]... رفع القدر فی توسل بوسیلۃ اہل البدر (مترجم)، صفحہ:9 خلاصۃً۔