Karbala Se Milne Wala Aik Sabaq

Book Name:Karbala Se Milne Wala Aik Sabaq

    مکروہ اور ناجائِز  ہے۔([1]) حدیثِ پاک میں ہے: جو مسجد میں اپنی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈتا (مثلاً اس کے لئے اِعْلان کرتا) ہو، اس سے کہو: خُدا کرے تجھے تیری چیز نہ ملے کہ مسجدیں اس کام کے لئے نہیں بنائی گئیں۔([2])  غور فرمائیے! جب مسجد میں اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز کا اِعْلان کرنا منع ہے تو دوسروں سے مانگنا کیسے درست ہو گا؟ مسجدیں بھیک مانگنے کے لئے نہیں اللہ پاک کی عِبَادت کے لئے بنائی گئی ہیں۔ یہ مانگنے والے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے، جس کو سجدہ کیا، اسی رَبِّ رحمٰن سے مانگیں تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! جھولی بھر جائے گی۔

اَہَم نوٹ: خیال رہے! مسجد میں مسجد ہی کی تعمیر و ترقی کے لئے، مختلف دِینی کاموں کے لئے یا امام و خطیب اور مؤذِّن صاحبان کی خِدْمت کے لئے جو چندہ کیا جاتا ہے، وہ جائِز بلکہ ثواب کا کام ہے، مسجد میں دِین کے لئے چندہ جمع کرنا حدیثوں سے ثابت ہے۔ اللہ  پاک ہمیں دُرست اسلامی اَحْکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ  خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                               صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

اَسْمَاءُ الحسنیٰ کی برکات (وظیفہ)

یَا رَشِیْدُ(اے ہدایت دینے والے)

جو شخص کسی کام کی تدبیر نہ جانتا ہو تو مغرب اور عشا کے درمیان 1000 مرتبہ یَا رَشِیْدُ


 

 



[1]... درمختار، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا،صفحہ:90۔

[2]...مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلاة، باب النہی عن نشد الضالۃ...الخ، صفحہ:208، حدیث:568۔