Karbala Se Milne Wala Aik Sabaq

Book Name:Karbala Se Milne Wala Aik Sabaq

امامِ عالی مقام نے آخری عمرہ ادا فرمایا

پیارے اسلامی بھائیو! 61 ہجری کا واقعہ ہے، یزید بدبخت تختِ سلطنت پر قابِض ہوا، اُس نے امامِ عالی مقام، امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ سے بیعت کا مُطالبہ کیا، آپ نے بیعت نہ کی اور مدینہ چھوڑ کر مکّے تشریف لے گئے۔ عبد اللہ بن سُلَیْم اَسَدِی کہتے ہیں: ہم لوگ حج کرنے کے لئے کوفہ سے مکہ حاضِر ہوئے، چاشت کا وقت تھا، میں نے دیکھا؛ امامِ عالی مقام امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ عنہما کعبے کے دروازے کے قریب کھڑے باتیں کر رہے ہیں، حضرت عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ عنہما  نے عرض کیا: اے امام! آپ یہیں رہئے! ہم آپ کی بیعت کریں گے۔ امام عالی مقام نے فرمایا: میرے والِدِ محترم (مولیٰ علی، شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ) نے مجھے حدیث سُنائی تھی کہ ایک مینڈھا ہو گا، جو کعبے کی حُرْمت کو پامال کرے گا، اسے یہاں قتل کر دیا جائے گا۔ میں یہاں رہ کر وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا۔  

مطلب یہ تھا کہ میری شہادت تَو طَے ہے، یہاں مکّے میں رہوں گا، تب بھی شہید تو ہونا ہی ہے، نقصان یہ ہو گا کہ یزید بدبخت میری دُشمنی میں مکّے کی بھی بےحرمتی کرے گا۔ لہٰذا مجھے جانا ہی ہو گا۔ اس کے بعد یہ دونوں دَیْر تک آہستہ آہستہ باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ظہر کا وقت قریب آگیا۔ اس کے بعد امامِ عالی مقام نے طواف کیا، صفا و مروَہ کی سعی فرمائی، بال کٹوائے، عمرہ مکمل فرمایا، پِھر کوفے کا سفر شروع فرما دیا۔([1])

میں خُدا کے فیصلے پر راضی ہوں

روایات میں ہے: فَرْزَدَقْ جو عرب کا مشہور شاعِر تھا، راستے میں اس کی امامِ عالی مقام


 

 



[1]...تاریخِ طبری، النسۃ الستون، ذکر ذکر مسیر الحسین الی الکوفۃ، جلد:3، صفحہ:295 ملتقطًا۔