Book Name:Bani Israel Ki Gaye
ڈھونڈ کر مجھے اِنْصاف دِلایا جائے۔
لوگ ایک دُوسرے پر اِلْزام لگانے لگے، ایک کہتا ہے: میں نے نہیں، فُلاں نے قتل کیا ہے، دوسرا کہتا ہے: میں نے نہیں، اُس نے قتل کیا ہے۔ یُوں ایک دوسرے پر اِلزام تراشیاں شروع ہو گئیں، جب کوئی حل نہ نکلا تو یہ لوگ اللہ پاک کے نبی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی خِدْمت میں حاضِر ہوئے، سارا واقعہ عرض کیا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةًؕ- (پارہ:1، البقرۃ:67)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔
بڑی حیرانی کی بات تھی، ڈھونڈنا تَو قاتِل ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ گائے ذبح کرو...!! بھلا قاتِل کی تلاش کا گائے کے ساتھ کیا تعلق...؟ یہ سوچ کر بنی اسرائیل بڑی بیباکی سے بولے:
اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًاؕ- (پارہ:1، البقرۃ:67)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں؟
اللہ! اللہ...!! کیا انبیائے کرام علیہم السَّلَام کے ساتھ اس لہجے میں بات کی جاتی ہے...؟ مگر بنی اسرائیل کے بعض لوگ ایسے ہی بےباک تھے۔
یہاں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا حِلْم، قُوَّتِ برداشت اور نرمی دیکھئے! بنی اسرائیل کی ایسی بیباکی کے باوُجُود آپ نے نرمی سے فرمایا:
َ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۶۷) (پارہ:1، البقرۃ:67)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔