Book Name:Bani Israel Ki Gaye
رنگ ہو کہ دیکھنے والوں کو خُوشی دے۔ یہ سُن کر بنی اسرائیل نے تیسرا سُوال پوچھا:
ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَۙ-اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَاؕ- (پارہ:1، البقرۃ:70)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: آپ اپنے ربّ سے دُعا کیجئے کہ ہمارے لئے واضح طور پر بیان کر دے کہ وہ گائے کیسی ہے؟کیونکہ بیشک گائے ہم پر مُشْتَبِہ ہوگئی ہے۔
یعنی یہ تو معلوم ہو گیا کہ وہ گائے کس قسم کی ہو گی، اب اس کے مزید اَوْصاف بھی بیان کر دئیے جائیں تاکہ ہم اسے اچھی طرح پہچان لیں۔ اس سُوال کے ساتھ بنی اسرائیل نے ایک اچھا کام کیا، بولے:
وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ(۷۰) (پارہ:1، البقرۃ:70)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور اگر اللہ چاہے گا تو یقیناً ہم راہ پا لیں گے۔
یعنی اس سُوال کے ساتھ انہوں نے اِنْ شَآءَ اللہ کہا، لہٰذا اَب کی بار گائے کے مکمل اَوْصاف کھول کر بتائے گئے، ارشاد ہوا:
اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَۚ-مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَاؕ- (پارہ:1، البقرۃ:71)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: وہ ایک ایسی گائے ہے جس سے یہ خدمت نہیں لی جاتی کہ وہ زمین میں ہل چلائے اور نہ وہ کھیتی کو پانی دیتی ہے، بالکل بے عیب ہے، اس میں کوئی داغ نہیں۔
اب اُن کی تسلی ہو گئی، کہنے لگے:
الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّؕ- (پارہ:1، البقرۃ:71)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اب آپ بالکل صحیح بات لائے ہیں۔