Book Name:Deeni Mutala Ki Ahmiyat
انہیں اِسلام کے مُتَعَلّق جو کچھ بتا دیا، جو غلط فہمیاں(Misconceptions)ان کے ذہنوں میں ڈال دِیْں، یہ بس اُن پر اَڑے رہتے ہیں۔ قریب آ کر اسلام کو سمجھتے اور دیکھتے ہی نہیں ہیں، لہٰذا اِسْلام سے مَحْرُوم رہ جاتے ہیں۔ اگر یہ اسلام کو سمجھنے کی کوشش کریں، قرآن وحدیث کا مُطالعہ کریں، عاشقانِ رسول عُلَمائے کرام کی کتابیں پڑھیں تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! اِن پر ہدایت کے دروازے کھل جائیں گے...!! اور ایسا ہوتا بھی ہے۔
ایک P.H.D سکالرتھا۔ اس نے عِلْمِ ریاضی میں P.H.D کر رکھی تھی۔ تھا وہ غیر مُسْلِم۔ غیر مسلموں کا عموماً بچپن ہی سے منفی ذِہن بنا دیا جاتا ہے، انہیں سمجھا دیا جاتا ہے کہ قرآنِ کریم اچھی کتاب نہیں ہے، اس لئے وہ ساری زِندگی نہ قرآن پڑھتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں، نہ اُن پر حق واضِح ہوتا ہے۔ خیر! یہ P.H.D سکالر جو تھا، اس نے ایک دِن سوچا کہ میں نے قرآن پڑھ کر اس سے کچھ سیکھنا تو نہیں ہے، چلو! اس میں غلطیاں ہی نکالتا ہوں۔ (اَسْتَغْفِرُ اللہ! )
الحمد للہ! قرآنِ کریم میں نہ تو کوئی غلطی ہے، نہ وہ نکال سکتا تھا، نہ ہی اِس سے نکلی۔ بہر حال! اس نے غلطیاں نکالنے کی نِیّت سے قرآنِ کریم پڑھنا شروع کیا، پڑھتا گیا، پڑھتا گیا، اَلْحَمْدُ سے وَالنَّاس تک پہنچا، الحمد للہ! غلطی تو یہ نکال ہی نہیں سکتا تھا، جب اس نے مکمل قرآنِ کریم کا مُطالعہ کیا تو اس پر حق کے دروازے کھل گئے اور یہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔
اَہْلِ منطق سر بہ سجدہ رہ گئے پڑھ لیا جب فلسفہ قرآن کا
وضاحت: یعنی بڑے بڑے فلسفی، بڑے بڑے علوم کے ماہِروں نے جب قرآنِ کریم پڑھا تو اُنہیں اپنے عُلُوم کم نظر آئے اور یہ حق کی راہ پا کر سجدے میں گِر گئے۔