Book Name:Bekhaufi Ka Wabal
تو دکھاؤ! کیا اللہ پاک نے تم سے وعدہ کر لیا ہے کہ وہ وَعْدےکی خِلاف ورزی نہیں کرے گا؟ ہر گز نہیں!! یہ کہیں نہیں لکھا کہ بنی اسرائیل بخشے بخشائے ہیں، جب تورات وغیرہ کسی کتاب میں یہ وعدہ موجود نہیں ہے، پِھر تم کس بنیاد پر یہ کہہ سکتے ہو کہ تم پکّے جنتی ہو؟
اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۸۰) (پارہ:1، البقرۃ:80)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بلکہ تم اللہ پر وہ بات کہہ رہے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
یعنی بات یہ ہے کہ بغیر عِلْم کے، محض اپنے قیاس سے ہی اللہ پاک پر حکم لگا رہے ہو کہ اللہ پاک نے ہمیں بخشنا ہی بخشنا ہے، سزا دینی ہی نہیں ہے؟ جبکہ اللہ پاک کے ہاں کا قانون یہ ہے کہ
بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓــٴَـتُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۸۱)
(پارہ:1، البقرۃ:81)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: کیوں نہیں، جس نے گناہ کمایا اور اُس کی خطا نے اُس کا گھیراؤ کر لیا تو وہی لوگ جہنمی ہیں، وہ ہمیشہ اُس میں رہیں گے۔
یعنی جو گُنَاہ کمائے اور وہ گُنَاہ اُسے چاروں طرف سے گھیر لیں یعنی وہ کفر میں جا پڑے، وہ جہنمی ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنّم میں رہے گا([1]) اور
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۸۲)
(پارہ:1، البقرۃ:82)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنّت والے ہیں اُنہیں ہمیشہ اُس میں رہنا۔
یعنی جو اِیمان قبول کرے، نیک کام کرے، یہ جنّتی ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنّت میں