Akhir Mout Hai

Book Name:Akhir Mout Hai

کرنی۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا ہے نا:

چُھپ کے لوگوں سے کئے جس کے گُنَاہ      وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے

کام زِنداں کے کیے اور ہمیں                   شوقِ       گلزار        ہے       کیا        ہونا        ہے([1])

جب ہم لوگوں کی نافرمانی نہیں کر رہے، پِھر بھی لوگوں سے شرماتے ہیں تو جس کی نافرمانی کرتے ہیں، اس سے کیوں نہیں شرماتے، وہ تو ہر چھپے اور ظاہِر کو جاننے والا ہے، دِلوں کے حالات سے بھی واقف ہے، اس لئے چاہئے کہ اس رَبّ کریم سے شرمایا کریں۔

ایک خوبصُورت نصیحت

اس حوالے سے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ایک بہت پیاری نصیحت سنیئے! فرمایا: وَاسْتَحِ اللَّهَ ‌اِسْتِحْيَاءَ ‌رَجُلٍ ذِيْ هَيْبَةٍ مِنْ اَهْلِكِ یعنی اللہ پاک سے ایسےحیا کرو! جیسے اپنے خاندان میں بارُعب شخص سے حیا کرتے ہو۔([2])

ایسا ہوتا ہے نا کہ بندہ غلط کام کر رہا ہو، اُوپَر سے والِد صاحِب آجائیں، مسجد کے امام صاحِب تشریف لے آئیں، بندہ فورًا خُود کو چھپاتا ہے، غلط کام جلدی سے چھوڑ دیتا ہے، مثلاً موبائِل پر کوئی گندی چیز دیکھ رہے تھے، اُوپَر سے اَبُّو جان آگئے، نوجوان جلدی سے موبائِل بند کرتے ہیں، اسے اِدھر اُدھر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ان کی حیا ہے، فرمایا: جتنی ان لوگوں سے حیا کرتے ہو، کم از کم اتنی ہی حیا اللہ پاک سے بھی کیا کرو...!!

کاش! یہ اچھی حیا ہمیں نصیب ہو جائے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!دُنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جائے گی۔


 

 



[1]...حدائقِ بخشش، صفحہ:167 ملتقطًا۔

[2]...مسند بزار، جلد:7، صفحہ:89، حدیث:2642۔