Book Name:Akhir Mout Hai
اللہ پاک کی عطا سے اب بھی اپنے مزار مبارَک میں دُنیوی زِندگی کے ساتھ زِندہ ہیں۔
تُو زِندہ ہے وَاللہ! تُو زِندہ ہے وَاللہ! مرے چَشمِ عالَم سے چُھپ جانے والے([1])
ہاں! *ہمیں اپنی موت کا عِلْم نہیں ہے *موت کے وقت ہمارا اِیمان سلامت رہ پائے گا یا نہیں، ہم نہیں جانتے *مرنے کے بعد ہماری قَبْر جنّت کا باغ بنے گی یا جہنّم کا گڑھا، ہم نہیں جانتے *روزِ قِیامت اللہ پاک کی رَحمت نصیب ہو گی یا نہیں *پیارے آقا، رسولِ خُدا، احمدِ مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شَفَاعت حاصِل کر پائیں گے یا گُنَاہوں کے جُرْم میں جہنّم میں دھکیل دئیے جائیں گے *پُل صراط سے باسلامت گزر پائیں گے یا نہیں، ہم نہیں جانتے مگر افسوس! ہمیں موت یاد نہیں رہتی۔
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں
پیارے اسلامی بھائیو! کاش!ہم موت کو یاد رکھنے والے بن جائیں،صحابئ رسول حضرت عَمّار بن یاسِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:محبوبِ خُدا، امامُ الْاَنْبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: کَفٰی بِا لْمَوْتِ وَاعِظًا یعنی نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے۔([2])
جب اس بزم سے اُٹھ گئے دوست اکثر اور اُٹھتے چلے جا رہے ہیں برابر
یہ ہر وَقْت پیشِ نَظَر جب ہے مَنْظَر یہاں پر تِرا دل بہلتا ہے کیوں کر
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے