Book Name:Akhir Mout Hai
قارون جیسے دُنیا پرستوں کے ہاتھ نہیں آیا تو ہمارے ہاتھ کہاں سے آئے گا؟ اس لئے ہمیں چاہئے کہ موت کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور اس کی تیاری میں لگے ہی رہا کریں۔
صحابئ رسول حضرت طارِق مُحارِبِی ررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: یَا طَارِقُ! اِسْتَعِدَّ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ یعنی اے طارق !مرنے سے پہلے موت کی تیاری کر لو...!!([1])
آخرت کی کرو جلد تیاریاں موت آ کر رہے گی تمہیں بےگُماں
تم اے بوڑھو سُنو! نوجوانو سُنو! اے ضَعیفو سُنو! پہلوانو سُنو!
موت کو ہر گھڑی سر پہ جانو سُنو! جلد تَوْبَہ کرو میری مانو سُنو!([2])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے موت کی تیاری کیسے کرنی ہے؟ سنیئے!
ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام ررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ م سے فرمایا:
اَكُلُّكُمْ يُحِبُّ اَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ؟
کیا تم سب جنّت میں جانا چاہتے ہو؟
عرض کیا: جی ہاں! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! ہم جنّت میں جانا چاہتےہیں۔