Book Name:Akhir Mout Hai
امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:جس نے موت کی یاد دل میں بسا لی تو دنیا کی سار ی مصیبتیں(Hardships) اس پر آسان ہو جائیں گی۔([1])
لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم موت کو یاد رکھا کریں، وقتاً فوقتاً قبرستان جایا کریں، وہاں قبروں کے حالات پر غور کریں، یہ سوچیں کہ ایک دِن میں نے بھی اسی قبر میں اترنا ہے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! آہستہ آہستہ موت کی یاد دِل میں بیٹھ جائے گی، یہ سعادت مل گئی تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!ہمارا کردار سنور جائے گا۔
پیارے آقا، رسولِ خُدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جنّتی بننے کا تیسرا نسخہ دیا، فرمایا: اللہ پاک سے ایسی حیا کرو! جیسی حیا کا حق ہے۔
یہ بھی پیاری نصیحت ہے، مثال کے طور پر *بندہ جھوٹ بول رہا ہو، کیا وہ چاہے گا کہ سامنے والے کو اس کے جُھوٹ کا پتا چل جائے؟ نہیں چاہے گا، ورنہ اسے شرمندگی ہو گی *بندہ بدکاری میں مبتلاہو، کیا چاہے گا کہ اسے کوئی دیکھ لے *سُودی کاروبار کرتا ہو، کیا چاہے گا کہ لوگوں کو پتا چل جائے *بندہ حرام کاموں میں مَصْرُوف ہو، کیا چاہے گا کہ کوئی اسے دیکھ لے؟ نہیں چاہے گا، ورنہ اسے شرمندگی ہو گی، نیک نامی پر دَھبا لگے گا، لوگوں کے سامنے وہ بندہ رُسْوا ہو جائے گا۔ یہ ایک طرح سے بندوں کی حیا ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے بُرائیاں نہیں کرتے، بس یہی تصَوُّر باندھنا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ پاک تو دیکھ ہی رہا ہے، لہٰذا اِس سے حیا کرنی ہے اور اس کے سامنے اس کی نافرمانی نہیں