Book Name:Akhir Mout Hai
یاد رکھ ہر آن! آخر موت ہے بَن تُو مَت اَنْجان آخر موت ہے
مرتے جاتے ہیں ہزاروں آدمی عاقِل و نادان آخر موت ہے
پیارے اسلامی بھائیو! ہمارا مسئلہ جانتے ہیں کیا ہے؟ ہم یہ جانتے ہیں، دِل و جان سے مانتے بھی ہیں کہ موت آنی ہی آنی ہے، جان جانی ہی جانی ہے اور ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ مرنے کے بعد قصَّہ ختم نہیں ہو گا، میت قبر میں اُترے گی، اس کے بعد سزا و جزا کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، مسئلہ یہ ہے کہ اس کے باوُجُود دُنیا کی محبّت ہمارے دِلوں میں گھر کر چکی ہے، لمبی اُمِّیدیں دِلوں میں بیٹھ چکی ہیں، یُوں لگتا ہے، جیسے ہم صدیوں زِندہ رہیں گے، یہ ذِہن بنا ہوتا ہے کہ *ابھی میں جوان ہوں *صحت مند ہوں *کوئی بیماری بھی بظاہِر نہیں ہے *ابھی میری شادِی ہوگی *بچے ہوں گے *پِھر کہیں بڑھاپا آئے گا *پِھر میں دادا بنوں گا *پردادا بنوں گا *پِھر کہیں جا کر موت آنی ہے۔ یہ صِرْف ایک جھوٹی اُمِّید ہے، موت تو بچوں کو بھی آتی ہے، جوانوں کو بھی آتی ہے، اُدھیڑ عمر والوں کو بھی آتی ہے، صحت مندوں کو بھی آتی ہے، بیماروں کو بھی آتی ہے۔
ملے خاک میں اَہْلِ شاں کیسے کیسے؟ مکیں ہو گئے لامکاں کیسے کیسے؟
ہوئے نامور بےنشاں کیسے کیسے؟ زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے؟
جگہ جی لگانے کی دُنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جَا ہے تماشہ نہیں ہے
انسان، موت اور اُمِّید کی مثال
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک