Book Name:Akhir Mout Hai
جاؤ گے جو ہر غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال بتادے گا۔
یعنی آج جو مرضِی کرتے پِھرو! جلد، بہت ہی جلد موت تمہیں دَبوچ لے گی، پِھر تمہیں ہر ظاہِر و غیب جاننے والے رَبِّ قہار کے حُضُور حاضِر کر دیا جائے گا، پِھر تمہارے سارے اَعْمال کھول کر تمہارے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔
مُسَلسَل موت نزدیک آ رہی ہے ہائے! بربادی
کرم مولیٰ! گناہوں کا مَرَض بڑھتا ہی جاتا ہے
الٰہی! واسِطہ پیارے کا، میری مَغْفِرت فرما
عذابِ نار سے مجھ کو خدایا خوف آتا ہے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس آیتِ کریمہ میں ہمارے لئے بھی سبق ہے، موت آنی ہے، آنی ہی آنی ہے، جان جانی ہے، جانی ہی جانی ہے، آج نہیں تو کل، کل نہیں تو آج اِس دُنیا سے رختِ سَفَر باندھنا ہی پڑے گا۔ اللہ پاک نے صاف اِعْلان فرما دیا:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ (پارہ:4، آلِ عمران:185)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔
دنیا فانی ہے اَہْلِ دُنیا فانی شہر و بازار و کَوْہ و صَحْرا فانی