Book Name:Akhir Mout Hai
یہ صِرْف ایک ڈوری ہی تو ہے، مختصر سِی ڈوری، کمزور سی ڈوری...!! چند منٹ آکسیجن نہ ملے تو سانس رُکنے لگتی ہے، اَٹک جاتی ہے، دَم گھٹ جاتا ہے، بس یہ ڈوری ٹوٹنے کی دَیْر ہے، بندہ دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ دُنیا کی یہی حقیقت ہے۔
دُنیا میں ایسے رہو جیسے مُسَافِر...!!
صحابی اِبْنِ صحابی، حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک دِن مجھے (کندھے سے) پکڑ کر فرمایا:اے عبد اللہ بن عمر! دُنیا میں ایسے رہو جیسے اَجنبی ہو یا ایسے جیسے مُسَافِر ہو اور اپنے آپ کو مُرْدوں میں شُمار کیا کرو...!! حضرت مُجَاہِد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھے فرمایا: اے مُجَاہِد!صبح کرو تو شام کے متعلق مت سوچا کرو! شام ہو جائے تو صبح کے متعلق مت سوچا کرو! اے اللہ کے بندے!بے شک تم نہیں جانتے کہ کل تمہارا نام کیا ہو گا؟ (یعنی تمہیں زِندوں میں شمُار کیا جائے گا یا مُرْدُوں میں)۔([1])
سیرتِ مصطفےٰ کا ایک حَسِیْن پہلو
پیارے اسلامی بھائیو! افسوس! ہمیں دُنیوی مستقبل کی فِکْر تو ستاتی رہتی ہے مگر آخرت کی فِکْر نہیں ستاتی۔ آہ! کہاں کا مستقبل...!! مستقبل تو دُور کی بات کل کِس نے دیکھی ہے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں اگلی سانس کا بھی عِلْم نہیں، نہ جانے آئے گی یا نہیں۔ صحابئ رسول حضرت اَبُوسعید خُدْری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ صحابی اِبْنِ صحابی حضرت اُسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک ماہ کے اُدھار پر کوئی چیز خریدی۔اِس پر اللہ پاک کے آخری