Akhir Mout Hai

Book Name:Akhir Mout Hai

لمبی اُمِّید آج کے دَور کا بڑا مسئلہ ہے

پیارے اسلامی بھائیو! *ہمارے مُعَاشرے میں گُنَاہ بڑھ رہے ہیں *بھائی چارہ ختم ہو رہا ہے *بھائی بھائی کا گریبان پکڑ رہا ہے *چوری ڈکیتی اور قتل کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں *گھروں میں لڑائی جھگڑے *دَنگا فساد وغیرہ وغیرہ مسائِل بڑھتے جا رہے ہیں، آخر یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس پر بہت سے لوگ تبصرے کرتے ہیں، آخر خرابی کہاں ہے؟ بڑے بڑے ماہِرین بہت کچھ بتاتے ہیں۔ آئیے! میں آپ کو حدیثِ پاک سُناتا ہوں،اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:اِس اُمّت کے پہلے لوگ یقین اور دُنیا سے بے رغبتی کے ذریعے نجات پا گئے اور آخر میں آنے والے لوگ بخل (یعنی کنجوسی) اور لمبی اُمّیدوں کے سبب ہلاک ہو گئے۔([1])

یہ ہے معاشرے کے بگاڑ کا اصلی سبب...!! کنجوسی اور لمبی اُمِّیدیں*ہم پر غفلت سُوار ہے *ہم فِکْرِ آخرت سے دُور ہیں *ہمیں دُنیوی مستقبل کی فِکْر ستاتی ہے اور اِسی فِکْر میں اپنے روشن مستقبل کی خاطِر گُنَاہوں کے اندھیروں میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں حالانکہ حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو مستقبل کوئی چیز نہیں ہے، صِرْف حال ہی حال (Present ہی Present) ہے، آج میں جو ہوں، کل میں نے ہونا ہے یا نہیں؟ میں نہیں جانتا۔ صِرْف ایک مَوہُوم(یعنی خیالی، تصوراتی) چیز کی خاطِر ہم سب دوڑ رہے ہیں، ہم میں سے لاکھوں لوگ اِسی دوڑ میں دوڑتے دوڑتے قَبْر کے گڑھے میں پہنچ چکے ہیں،عنقریب ہم بھی اِسی گڑھے میں گِر جائیں گے،یہ دُنیا،اِس دُنیا کا عارضی اور فانی مستقبل نمرود،فِرْعون، ہامان اور


 

 



[1]...موسوعہ ابن ابی الدنیا،کتاب:الیقین،جلد:1 ،صفحہ:19 ،حدیث:3۔