Book Name:Apni Jan Par Zulm
اُس کو راضی کرلیتے تو شایدتمہیں یہ اَعضا کٹوانے نہ پڑتے،اَب بھی وقت ہے اُس شخص کے پاس جاؤ اور اُس کوراضی کرو، اس سے پہلے کہ یہ تکلیف پورے جسم میں پھیل جائے، میں نے بڑی مشکل سے اس مچھلی والے کو ڈھونڈنکالا اور معافی مانگنے کے لئے اُس کے پاؤں میں گِر گیا۔ اُس نے پریشا ن ہوکر پُوچھا :تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں وہی شخص ہوں جو تم سے مچھلی چھین کر لے گیاتھا، پھرمیں نے اُسے ساری تفصیل بتا کر کٹا ہواہاتھ دکھایا تو وہ بھی رَودِیا اور کہنے لگا: میرے بھائی ! میں نے تمہیں معاف کیا۔ میں نے اُسے گواہ بنا کر آئندہ کے لئے کسی پر ظلم کرنے سے تَوْبَہ کر لی۔([1])
ایک لکیر شام کی، کہتی ہے درمیاں کی بات
خلقِ خُدا کا ایک دِن، باقی ہیں سب خُدا کے دِن
وضاحت: یعنی ہر دِن کے بعد شام بھی آتی ہے، ہر عروج کو زوال بھی لگتا ہے، ہر طاقت کبھی نہ کبھی کمزور بھی ہو ہی جاتی ہے، اِس سے پتا چلتا ہے کہ مخلوق کا صِرْف ایک دِن ہے، یعنی عَمَل کا دِن، باقی سب دِن اللہ پاک کے ہیں یعنی جب مخلوق نے عَمَل کر لیا، اب اُس کے بعد اِخْتیار اللہ پاک کا ہے، وہ چاہے تو سزا دے، چاہے تو مُعَاف فرما دے۔
پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا؛ گُنَاہ اپنی جانوں پر ظُلْم ہے، جو گُنَاہ کرتا ہے، بُرائیاں کرتا ہے، وہ خُود اپنی ہی جان پر ظُلْم کر رہا ہے۔ آدمی اگر گُنَاہ کرتا ہے تو اب 2ہی صُورتیں ہیں (1):یا تو وہ توبہ کرے گا اور اُس گُنَاہ سے باز آجائے گا (2):ورنہ اس گُنَاہ کی سزا بُھگتے گا۔ اللہ پاک نے عبرت کے لئے قرآنِ کریم میں قومِ نُوح، قومِ عاد، قومِ ثمود، فرعون،