Apni Jan Par Zulm

Book Name:Apni Jan Par Zulm

قرض دینے والے کے پاس رکھی جاتی ہے، اسے عربی میں رَہْن(یعنی گِرْوِی رکھی ہوئی چیز) کہتے ہیں۔ اِس آیتِ کریمہ میں یہی لفظ استعمال ہوا اَور اللہ پاک نے فرمایا: ہر جان اپنی کرنی میں (یعنی اپنے اعمال کے بدلے) گِرْوِی رکھی ہے۔

 گویا اَعمال تِیْر کی مانند ہیں، تِیْر جب کمان سے نکل جائے تو پلٹ کر نہیں آتا، اسی طرح ہم نے جو کچھ عمل کر لیا، سَو کر لیا، اَب اِس کے نتیجے کے ذِمّے دار بھی ہم خود ہیں، اگر اچھا کام کریں گے تو نتیجہ اچھا نکلے گا، بُرا کریں گے تو نتیجہ بُرا نکلے گا، ہم صِرْف عمل کا اختیار رکھتے ہیں، نتائج یعنی اُس عمل کی سزا یا جزا کا مالِک اللہ پاک ہے، ہر شخص اپنے اَعْمَال کے بدلے گِرْوِی رکھا ہوا ہے،جو وہ کرے گا،اُس کے مطابق نتیجہ نکلے گا۔

جیسی کرنی ویسی بھرنی

بڑی خوبصُورت حدیثِ پاک ہے، ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے! حضور جانِ کائنات، شاہِ مَوْجُودات  صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا: اَلْبِرُّ لَایَبْلٰی نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی وَالذَّنْبُ لَایُنْسٰی گُناہ کبھی بُھلایا نہیں جاتا وَالدَّیَّانُ لَایَمُوْتُ اور بدلہ دینے والی ذات (یعنی اللہ پاک) کو کبھی مَوت نہیں آئے گی اِعْمَلْ مَاشِئْتَ جو چاہو کرو! کَمَا تَدِیْنُ تُدَانْ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ ([1])

گَنْدُم زِ گَنْدُم جَوْ زِ جَوْ                                                                                                                              اَزْ مَکَافَاتِ عَمَل غَافِل مَشَوْ

وضاحت: گندم بیج کر گندم ہی کاٹو گے، جَو بیج کر جَو ہی کاٹو گے، دُنیا میں مَکَافَاتِ عَمَل ہے یعنی یہاں Tit For Tate (جیسی کرنی وَیسی بَھرنی) والا قانون جاری ہے، اِس سے غفلت مَت کرو!


 

 



[1]...جامع صغیر، صفحہ:192، حدیث:3199۔