Book Name:Apni Jan Par Zulm
اُس کا والِد اِس امیر شخص کے ہاں مزدوری کرتا تھا، اُس نے کتنا عرصہ اُسے مزدُوری نہ دی، تھیلا میں جو رقم تھی، اَصْل میں وہ مزدُوری ہی کے پیسے تھے، جو اُس امیر نے روک رکھے تھے۔ چنانچہ اُس مزدُور کی کمائی، بچے کے ذریعے اس کے گھر پہنچ گئی۔ جو بوڑھا تھا، اُس نے اپنی جوانی میں اِس امیر شخص کے والِد کو قتل کیا تھا، آج اُس قتل کے بدلے وہ خُود قتل ہو گیا۔ یُوں مزدُور کو اُس کی مزدُوری بھی مِل گئی اور قاتِل کو اُس کی سزا بھی مِل گئی۔([1])
اللہُ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے اللہ پاک کا عَدْل و اِنْصَاف...!! اِس سے پتا چلا؛ اللہ پاک کسی جان پر ظُلْم نہیں فرماتا، بعض دفعہ جو لوگوں کو بظاہِر ظُلْم لگ رہا ہوتا ہے، یہ اَصْل میں بندے کے اپنے ہاتھوں ہی کی کمائی ہوتی ہے، جس کا اُسے بدلہ مِل رہا ہوتا ہے۔
غم اور پریشانیاں کیوں آتی ہیں؟
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ- (پارہ:5، ا لنساء:123)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: جو کوئی برائی کرے گا، اُسے اُس کا بدلہ دیا جائے گا۔
یعنی جو بُرائی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پائے گا چاہے دُنیا میں پائے، چاہے آخرت میں۔([2]) ایک مرتبہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ عنہ نے بارگاہِ رِسالت میں اِسی آیت سے متعلق سُوال کیا، پُوچھا: یارسولَ اللہ صلّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہمارے ہر عَمَل کا بدلہ دیا جائے گا؟ فرمایا: غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا اَبَا بَكْرٍ اے ابو بکر! الله پاک