Book Name:Apni Jan Par Zulm
یعنی اللہ پاک کسی بھی شخص کو بےقُصُور سزا نہیں دیتا، وہ تو اِنتہائی مہربان، بہت رحم فرمانے والا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے بندوں پر عطائیں ہی فرماتا ہے۔
پِھر ذِہن میں سُوال اُٹھتا ہے: جب اللہ پاک رحم ہی فرماتا ہے تو یہ جو ہمیں پریشانیاں آتی ہیں، دُکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، پچھلی اُمّتوں پر اجتماعی عذاب بھی آیا کرتے تھے، یہ سب کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۴۴) (پارہ:11، یونس:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ہاں لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
یعنی یہ بندوں کے اپنے اَعْمال کا بدلہ ہے، جب بندے کُفرکرتے ہیں، شِرک کرتے ہیں، اللہ پاک کی نافرمانیاں کرتے ہیں، اُس کے اَحْکام کے اُلٹ چلتے ہیں، تب انہیں اَعْمال کا بدلہ دیا جاتا ہے،([1])لہٰذا یہ اللہ پاک کی طرف سے بےانصافی یا ظُلْم نہیں بلکہ بندوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اَصْل میں یہ وہ ظُلْم ہے جو بندوں نے خُود اپنی جانوں پر کیا ہے۔
اللہ پاک کے عدل کی مثال
اللہ پاک کے نبی ہیں: حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ۔ ایک مرتبہ آپ نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا: اے مالِکِ کریم! میں تیرا عدل و انصاف دیکھنا چاہتاہوں۔ فرمایا: اے موسیٰ! آپ دیکھ نہیں پائیں گے۔ عرض کیا: مولیٰ! تُو دِکھانے پر قدرت رکھتا ہے۔ فرمایا: چلئے! پِھر فُلاں جگہ دریا کے کِنَارے جائیے! اور چُھپ کر ہمارا عَدْل دیکھئے! حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام