Book Name:Apni Jan Par Zulm
ہامان اور قارُون وغیرہ کا ذِکْر کیا، پِھر فرمایا:
فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًاۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَۚ-وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَاۚ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۴۰) (پارہ:20، العنکبوت:40)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ان میں ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی وجہ سے (ہی) پکڑا تو ان میں کسی پر ہم نے پتھراؤ بھیجا اور ان میں کسی کو خوفناک آواز نے پکڑ لیا اور ان میں کسی کو زمین میں دھنسا دیااور ان میں کسی کو ڈبو دیا اور اللہ کی شان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرے ہاں وہ خود ہی اپنی جانوں پرظلم کرتے ہیں۔
یعنی قومِ عَاد پر سخت آندھی کا عذاب آیا، جس نے اُنہیں کھائے ہوئے بُھوسے کی طرح مَلْیَا مَیْٹ کر کے رکھ دیا، اُس کا سبب اُن کے گُنَاہ تھے *قومِ ثمود پر شدید زلزلے کا عذاب آیا، جس نے اُنہیں ہمیشہ کے لئے فنا کے گھاٹ اُتار دیا، اُس کا سبب بھی اُن کے گُنَاہ تھے *نَمْرُوْد پر مچھروں کا عذاب بھیجا گیا، اس کا سبب بھی اس کے گُنَاہ ہی تھے *فرعون کو دریا میں غرق کر دیا گیا، اُس کا سبب بھی اُس کے گُنَاہ تھے *قارون کو اُس کے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، اُس کا سبب بھی گُنَاہ ہی تھے، غرض؛ یہ گُنَاہ ہی ہیں جو انسان کو تباہی تک لے جاتے ہیں، لہٰذا گُنَاہ اپنی ہی جانوں پر ظُلْم ہے، اِس لئے ہمیں چاہئے کہ ان نافرمانیوں اور گُنَاہوں سے دُور رہا کریں۔
امام حَسَن بَصری رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے: اے اِبْنِ آدم! تیری ہلاکت ہو! کیا تُو اللہ پاک سے مقابلہ کرنا چاہتا ہے؟ ہاں! ہاں! جس نے اللہ پاک کی نافرمانی کی گویا اُس نے