Book Name:Apni Jan Par Zulm
اللہ پاک کی پناہ! یُوں لگتا ہے کہ مُعَاشرے کا ہر دوسرا، تیسرا فرد غیبت اور چُغْلی کی مشین ہے، روزانہ تَھْوک کے حساب سے غیبتیں ہو رہی ہوتی ہیں، اور بھی کتنے سارے گُنَاہ ہیں جو دِن رات ہو رہے ہوتے ہیں، جب حالت ایسی ہے تو پریشانیاں تو آنی ہی ہیں، غم، مصیبت، مشکلات وغیرہ تو چلتی ہی رہیں گی۔ اِس میں قُصُور قسمت کا نہیں، قُصُور ہمارے اَعْمال کا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا (پارہ:14، النحل:34)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:تواُن كے اعمال کی برائیاں اُن پر آ پڑِیْں۔
جو کچھ بھی ہیں، سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتُوت
شِکْوہ ہے زمانے کا، نہ قِسمت سے گِلہ ہے
لوگ اپنے عَمَل کے عِوْض گِرْوِی ہیں
سورۂ مُدَّثِّر کی آیت 38 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ(۳۸) (پارہ29،المدثر:38)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان:ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں گِرْوِی رکھی ہے۔
عُمُوماً جب کسی شخص سے قَرْض لینا ہو تو قرض دینے والا ضمانت مانگتا ہے کہ تم اپناکوئی ضمانتی دے دو تو میں تمہیں قرض دے دُوں گا، اِس صُورت میں اگر قرض مانگنے والے کے پاس کوئی ضَمانتی موجود نہ ہو تو وہ اپنی کوئی قیمتی چیز مثلاًزمین کے کاغذات، سونے چاندی کے زیور وغیرہ بطورضمانت اُسے دے کر قرضہ حاصِل کر لیتا ہے اور یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ میں قرض واپس لوٹا کر اپنی چیز تم سے واپس لے لوں گا۔ یہ جو چیز بطورِ ضمانت