Book Name:Aj Le Un Ki Panah
نافرمانیاں کیں، آخر اُن پر غضبِ اِلٰہی برس گیا، یہاں تک کہ اللہ پاک نے فرمایا:
وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ- (پارہ:1،البقرۃ:61)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور اُن پر ذلت اور غربت مُسَلَّط کر دی گئی۔
یعنی اُن کی مسلسل نافرمانیوں کے بعد آخر اُن پر ذِلّت و رُسْوائی مُسَلَّط کر دی گئی ۔ یہ یقیناً ایک بھیانک انجام تھا لیکن ابھی وقت باقی ہے، مُہلت ابھی بھی ہے، یہ اُس ذِلّت و رُسوائی کے گڑھے سے نکل سکتے تھے، اِس کا طریقہ کیا تھا؟ اللہ پاک نے اُن بنی اسرائیل کے لئے اور اُن جیسے دیگر غیر مسلموں کے لئے ذِلّت ورُسْوائی سے نکلنے کا طریقہ بتایا، ارشاد ہوا:
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (پارہ:1،البقرۃ:62)
مَعْرِفَۃ الْقُرْآن: بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے
یعنی وہ لوگ جو پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی تشریف آوری سے پہلے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر سچے طریقے پر واقعی اِیمان رکھتے تھے،([1]) وہ اور
وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا (پارہ:1،البقرۃ:62)
مَعْرِفَۃ الْقُرْآن: اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے۔
یعنی وہ جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر اِیمان کا دعویٰ کرتے ہیں([2])
وَ النَّصٰرٰى (پارہ:1،البقرۃ:62)
مَعْرِفَۃ الْقُرْآن: اور عیسائی۔
اور وہ جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر اِیمان کا دعویٰ کرتے ہیں ([3])
وَ الصّٰبِـٕیْن (پارہ:1،البقرۃ:62)
مَعْرِفَۃ الْقُرْآن: اور ستارہ پرست۔
اور ستاروں کی پُوجا کرنے والے ، اِن سب غیر مسلموں میں سے