Book Name:Quran Karim Ki 3 Shanain
شیطان کے لئے دِل کے دروازے کھول دئیے، شیطان اس کے دِل میں ڈیرے جما لیتا ہے، تو جس دِل میں شیطان ڈیرا جمائے بیٹھا ہو، وہاں ہدایت اور رحمت کیسے آ سکتی ہے؟
پتا چلا؛ ہم مسلمان ہیں، ہم نے قرآنِ کریم کے ساتھ اپنا رشتہ جَوڑنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ قرآنِ کریم کا زیادہ سے زیادہ فیضان پانے کے لئے نمازیں بھی پڑھتے رہنا ہے، اللہ پاک کی راہ میں صدقہ خیرات بھی کرتے رہنا ہے اور آخرت کا خوف بھی دِل میں جمائے رکھنا ہے۔
منقول ہے: ایک مرتبہ ایک نیک آدمی کی شیطان سے ملاقات ہوئی، وہ نیک آدمی بہت عقل مندتھا، اس نے شیطان سے کہا: اے ابلیس! یہ بتا کہ میں تیرے جیسا کیسے بن سکتا ہوں؟ شیطان بولا: تیرا بُرا ہو! یہ کیسا سُوال ہے؟ مجھ سے کبھی کسی نے یہ بات نہیں پوچھی (سب مجھ سے بچنے کے طریقے ہی سوچتے ہیں اور تُو ہے کہ میرے جیسا بننا چاہتا ہے)؟نیک آدمی نے کہا: بس مجھے یہ پسند ہے، تم سوال کا جواب دو...!! (اب شیطان کے دِل میں تو شاید لڈو پُھوٹے ہوں گے، بڑا خوش ہوا ہو گا کہ چلو میرے جیسا کوئی مِل گیا، چنانچہ) شیطان نے اپنے راز سے پردہ اُٹھاتے ہوئے کہا: میرے جیسا بننا بہت آسان ہے، بس 2 کام کر لو! (1):نمازوں میں سُستی کیا کرو! (2):جُھوٹی ہوں یا سچّی زیادہ سے زیادہ قسمیں کھایا کرو! تم میرے جیسے بن جاؤ گے۔ یہ سُن کر اس نیک آدمی نے کہا: میں اللہ پاک سے وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ یہ دونوں کام ہی نہیں کیا کروں گا۔ شیطان بولا: مجھے کبھی کسی نے ایسے دھوکا نہیں دیا، میں بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ کبھی آدمی کو نصیحت نہیں کروں گا۔([1])