Book Name:Quran Karim Ki 3 Shanain
ان آیات کو سُن کر تو میرا دِل ایسے ہو گیا جیسے اَبھی پَھٹ جائے گا۔ مجھے یُوں لگ رہا تھا کہ میں یہاں سے قَدم بھی نہیں اُٹھا سکوں گا، اس سے پہلے ہی مجھ پر عَذاب بَرس جائے گا۔ بس میں نے اللہ پاک کے عَذاب سے ڈر کر اُسی وقت اِیمان قبول کر لیا۔ ([1])
آں کِتَابِ زِنْده قُرْآنِ حَکِیم حِکْمَتِ اُوْ لَایَزَال اَسْت وَ قَدِیم
مفہوم:یہ قرآنِ مجید زِندہ وجاوید کتاب ہے، اس میں بیان کی گئی تعلیمات، قیامت تک کے تمام مَسائل (Problems) کے حل(Solution) کے لئے کافِی بھی ہیں اور بہتر بھی ہیں۔
یہ ہے قرآنِ کریم کا کتابِ ہدایت ہونا...!! یہ تجربے کی بات ہے، وہ بندہ جو قرآنِ کریم کی تِلاوت کا عادِی ہو، چاہے بغیر سمجھے ہی قرآنِ کریم کی تِلاوت کرتا ہو *اُس کا دِل نَرم پڑ جاتا ہے *دِل میں نیکی کے جَذبات پیدا ہو جاتے ہیں *اُس کے اَخلاق اور کِردار (Character)میں مُثبت تبدیلی (Positive Change) آ جاتی ہے *اُس کو ظاہِر اور باطِن کی پاکیزگی نصیب ہو جاتی ہے *اور وہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بن کر اُبھرتا ہے۔ اور اگر قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھیں، پِھر تو واہ...!! سُبْحٰنَ اللہ...!! ایسے خوش نصیب کی تو شان ہی نِرالی ہے۔
گنہگار کو توبہ کی توفیق مل گئی
حضرت اَبُو ہَاشم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں بَصَرہ جانے کے لئے کشتی میں سُوار ہوا۔ اس کشتی میں ایک مَرد تھا اور اُس کے ساتھ اُس کی کنیز تھی۔ جب ہم کچھ آگے بڑھے تو اُس مَرد نے کنیز سے کہا: شراب لے آؤ! وہ شراب لائی، مَرْد پینے لگا اور کنیز