Book Name:Quran Karim Ki 3 Shanain
پیارے اسلامی بھائیو! غور کا مقام ہے...!! 2 کام ہیں جو انسان کوشیطان بنا دیتے ہیں۔ (1):نمازوں میں سُستی کرنا (2):زیادہ قسمیں کھانا۔افسوس! یہ دونوں کام ہمارے معاشرے میں بڑھتے چلے جا رہےہیں۔ اب اَلحمدُ لِلّٰہ! رَمْضَان شریف کے برکتوں والے دِن ہیں، مسجدوں میں جیسی ہونی چاہئے، ویسی نہ سہی بہر حال رَونق تو ہے، نمازیوں کی تَعداد بڑھی ہوئی تو ہے مگر افسوس! جیسے ہی ماہِ رَمضَان رُخصت ہو گا، نمازوں میں سُستی پِھر بڑھ جائے گی۔ مسجدیں وِیران ہو جائیں گی، گنتی کے چند نمازی ہی باقی رہ جائیں گے۔
اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے، ہم نے شیطان جیسا نہیں بننا، شیطان سے دُشمنی کرنی ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّاؕ- (پارہ:22، فاطر:6)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم بھی اسے دشمن سمجھو۔
یعنی اے لوگو! اللہ پاک کی عِبَادت پر قائِم رہ کر اور اللہ پاک کی نافرمانی میں شیطان کی پیروی نہ کر کے شیطان سے دُشمنی کرتے رہو!اِسے ہمیشہ ہی دُشمن جانتے رہو! ([1])
یہ ہماری ذِمَّہ داریوں میں سے ایک ذِمَّہ داری ہے کہ ہم شیطان کو دُشمن سمجھیں... اس کے لئے کیا کرنا ہے، نمازیں پڑھنی ہیں۔ لہٰذا آج یہ پکّا ارادہ کیجئے کہ ہم نماز میں ہر گز سُستی نہیں کریں گے، چاند رات کی عشا بھی باجماعت ادا کریں گے، فجر بھی باجماعت پڑھیں گے، عید کے دِن بھی پانچوں نمازیں باجماعت ادا کریں گے اور اس کے بعد بھی