رجب المرجب اسلامی سال کاساتواں مہینا ہے

رَجَبُ المُرَجَّب اسلامی سال کا ساتواں مہینا ہے۔ اس میں جن صَحابۂ  کرام، عُلَمائے اسلام اور اَولیائے عِظام کا یومِ وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے50کا مختصرذِکْر”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“رجبُ المُرَجّب1438ھ تا1440ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا،مزید 12کا تعارُف مُلاحَظہ فرمائیے:صحابۂ  کرام علیہمُ الرِّضوان:  (1) جلیلُ القدرصحابی حضرت سیّدُنا سلمان فارِسیرضی اللہ عنہرَامَهُرْمُز (خُوزِستان، ایران) کے باشِندے تھے، آپ کا وِصال 10رجب 33یا36ھ کو مدائن(عراق) میں ہوا، یہیں سلمان پارک کے عَلاقے میں مزارِمبارَک دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے، آپ طویلُ العمر، مجاہدِاسلام، گورنرِ مدائن، مُشتاقِ جنّت، سلسلۂ نقشبندیہ کے تیسرے شیخِ طریقت اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سَلْمَانُ الْخَیْر، سَلْمَانُ مِنَّا اَہْلَ الْبَیْت(سلمان ہمارے اہلِ بیت سے ہیں) کی خوشخبریاں پانے والے ہیں۔([1]) (2)محبوبِ قوم حضرت نُعیم نَحّام بن عبداللہ عَدَوی قُرَشی رضی اللہ عنہ قدیمُ الاسلام صحابی، بیواؤں، یتیموں اور فقراء کی خبرگیری کی وجہ سےاپنی قوم کے محبوب تھے ، اسی وجہ سے ہجرت سے روکے گئے،ہجرت کے چھٹے سال اپنی قوم کے 40 افراد کے ساتھ ہجرت کی اور بعد کے تمام غزوات میں شریک ہوئے، ایک روایت کے مطابق رجب15ھ کو جنگِ یَرمُوک میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی عظمت اس فرمانِ مصطفےٰصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے بھی معلوم ہوتی ہے:دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ نَحْمَةً مِّنْ نُعيمٍ یعنی میں جنّت میں گیا تو وہاں نُعیم کے کھنکارنے کی آواز سنی۔([2]) اولیائے کرام رحمہمُ اللہُ السّلَام: (3)خلیفۂ راشد، امیرُالمؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز اُمَوی قُرَشی رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 63ھ کو مدینۂ منوّرہ کے دولت مند خاندان میں ہوئی اور 20رجب101ھ کو دَیر سِمعان (معرۃ النعمان،صوبہ اِدلب) شام میں وِصال فرمایا، یہیں مزارِمبارَک ہے۔ آپ تابعی، عالمِ دین، زاہد و متقی، خوفِ خدا کے پیکر، امامِ عادل، مجدِّدِ اسلام اور اسلام کی مؤثّر ومثالی شخصیت تھے،آپ نے نہ صرف احادیث کو جمع کرنے کا حکم دیا بلکہ ان کی بھرپور اِشاعت بھی فرمائی۔([3]) (4)امامُ الاولیاء حضرت حسن بَصْری رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 21ھ کو مدینہ شریف میں ہوئی اور وِصال یکم رجب 110ھ کو فرمایا،مزارِ مبارَک مدینۃ الزبیر (ضلع بصرہ) عراق میں ہے۔آپ اُمُّ المؤمنین اُمِّ سَلَمہ رضی اللہ عنہا کی آغوش میں پرورش پانے والے، حافظِ قراٰن، سیّدالتابعین، عالمِ جلیل، فقیہ و محدِّث،فصیحِ زمانہ، رقیقُ القلب (نرم دل)، ولیِ کامل، خلیفۂ حضرتِ علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سلسلۂ چشتیہ کے تیسرے شیخِ طریقت ہیں۔([4]) (5)امامُ الوقت حضرت امام جعفر صادِق رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 80ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہیں 15رجب 148ھ کو وِصال فرمایا، جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے،آپ خاندانِ اہلِ بیت کے چشم و چراغ، جلیلُ القدر تابعی، محدِّث و فقیہ، علّامۂ دَہر، استاذِامام اعظم اور سلسلۂ قادِریہ کےچھٹے شیخِ طریقت ہیں۔([5]) (6)بانیِ سلسلۂ علوانیہ حضرت سیّد احمد بن علوان حَسَنی شافِعی قادِری رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت تقریباً 600ھ کومَوضَع ذو الجنان (مضافاتِ جَبَلِ ذخر صوبہ مَعافِر) یَمَن میں ہوئی اور 20رجب 665ھ کو یفرس (مضافاتِ جبل حبشی صوبہ تَعِزّ) یَمَن میں وِصال فرمایا، یہیں مزارِ مبارَک زیارت گاہِ عام ہے۔ آپ جیّد عالمِ دین، صاحبِ کراماتِ کثیرہ، مصنّفِ کُتُبِ جلیلہ، تاجُ الاصفیاء، جَوزیِ یَمَن،صَفِیُّ الدّین جیسے القابات سے مُلَقَّب (یعنی لقب دیے گئے)اور یَمَن کے اَکابر اولیا سے ہیں۔ تصانیف میں سے اَلتّوحیدُالاَعْظَم اور اَلْمِھْرجان بھی ہیں۔([6]) (7)عُمدۃُ العارِفین حضرتِ وقت خواجہ حافظ محمدحسن جان سرہندی مجدِّدی رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 1278ھ کو قندھار (افغانستان) میں ہوئی اور وِصال2رجب 1365ھ کو فرمایا، تدفین مَقْبرہ شریف دامنِ کوہ گنجوٹکر (نزد حیدرآباد سندھ) میں والدگرامی کے مزار سے متّصل ہوئی۔ آپ آستانۂ عالیہ سرہندیہ مجدِّدیہ کے چشم وچراغ، حافظِ قراٰن، تِلْمیذِ عُلَمائے عرب و عجم،جامِعِ عُلومِ ظاہری وباطنی، دینی و ملّی خدمات میں فعال(Active)،مَرجَعِ عوام و عُلَما اور 25سے زائد کتب ورسائل کے مصنّف تھے۔([7])علمائے اسلام رحمہمُ اللہُ السّلَام: (8)عالمِ شہیر حضرت علّامہ قاضی شِہابُ الدّین احمد دولت آبادی حَنَفی رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 750ھ کو دولت آباد (ضلع اورنگ آبادصوبہ مہارا شٹر) ہِند میں ہوئی۔ 25 رجب 849ھ کو جونپور (یوپی)ہِندمیں وِصال فرمایا، مزار مسجدِ اٹالہ سے متصل راج کالج میں ہے۔آپ عظیمُ المَرتَبت عالمِ دین، جامِعِ معقول و منقول، مَرجَعِ عوام و خواص، قاضی القضاۃ،استاذُالعُلَماء اور چشتیہ سلسلے سے منسلک تھے، 18تصانیف میں سے تفسیرِ قراٰ ن بحرِ مَوّاج، شرحِ کافیہ، کتاب الاِرْشاد اوربَدیعُ البَیان بھی ہیں۔([8]) (9)مُفسّرِ قراٰن، بَیْہَقی وقت حضرت مولانا قاضی ثناءُ اللہ پانی پتّی حَنَفی رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت تقریباً 1145ھ کو پانی پت (مشرقی پنجاب ) ہِند میں ہوئی اور یہیں یکم رجب 1225 ھ کو وِصال فرمایا۔تدفین مزارِ مخدوم جلال الدین کبیرُالاولیا کےقریب ایک احاطے میں ہوئی۔ آپ عالمِ باعمل، قاضی ومفتیِ اسلام، شیخُ الحدیث و التّفسیر اور سلسلۂ نقشبندیہ مجدِّدیہ کے شیخِ طریقت تھے۔تصانیف میں تفسیرِ مَظْہَری اور مَالَابُدَّ مِنْہُ یادگار ہیں۔([9]) (10)استاذُالعُلَماء حضرت علّامہ شاہ سلامتُ اللہ کشفی قادِری بَدایُونی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ کبیر، مفتیِ اسلام، شیخُ الحدیث و التّفسیر، پیرِطریقت، صاحبِ دیوان شاعر، تِلْمیذسراجُ الہند علّامہ شاہ عبدالعزیز محدِّث دِہلَوِی رحمۃ اللہ علیہ، مُرید و خلیفہ شمس مارہرہ شاہ اچھے میاں برکاتی رحمۃ اللہ علیہ اور مصنّفِ کُتُبِ کثیرہ ہیں، آپ کی پیدائش بَدایون کے ایک رئیس خاندان میں ہوئی اور وفات 3رجب 1281ھ کو کان پورمیں ہوئی، مزارِ مبارَک کان پور(یوپی ہند) میں اپنی تعمیرکردہ مسجد کے سامنے ہے۔([10]) (11)میاں صاحِب قصّہ خوانی حضرت علّامہ مفتی میاں نصیر احمد پشاوری قادِریرحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 1228ھ پشاور (خیبر پختو نخواہ) پاکستان میں ہوئی اور یہیں 18رجب 1308ھ کو وِصال فرمایا۔آپ شیخُ العُلَماء، استاذُ الاساتِذہ، عالمِ باعمل، صاحبِ تصنیف،مفتیِ اسلام، خلیفہ حضرتِ سوات سیدو بابا اور بہترین شاعر تھے۔([11]) (12)بحرالعلوم حضرت علّامہ مفتی سیّد محمد افضل حسین مونگیریرحمۃ اللہ علیہکی وِلادت 1337ھ بوانا (ضلع مونگیر صوبہ بہار) ہِند میں ہوئی اور21 رجب 1402ھ کو سکّھر سندھ میں وِصال فرمایا۔ آپ فاضِل دارُ العُلوم مَنظر اسلام بریلی شریف، استاذُالعُلَماء، شیخُ الحدیث، ماہرِ علم تَوقیت و مَنطِق و حساب،خلیفۂ مفتیِ اعظم ہِند،مصنّفِ کُتُب اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔آپ کی 40 کُتُب میں زُبدَۃ ُالتَّوقیت،عُمدۃُ الفَرائض بھی ہیں۔([12])

_______________________

٭…ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی      

٭…رکن شوریٰ ونگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،کراچی    



([1] )طبقاتِ ابنِ سعد،ج 4،ص54، 70، تاریخ ابنِ عساکر،ج 21،ص373، 460، کراماتِ صحابہ، ص217، 219

([2] )طبقاتِ ابنِ سعد،ج 4،ص102، 103، الاصابہ،ج 6،ص361

([3] )طبقاتِ ابنِ سعد،ج 5،ص253، 320، تاریخ اسلام،ج 3،ص115، 131، تاریخ الخلفاء، ص183، 197

([4] )سیراعلام النبلاء،ج 5،ص456تا473، تذکرۃ الاولیا،ج 1،ص34تا 48، اجمال ترجمہ اکمال، ص19

([5] )سیراعلام النبلاء،ج 6،ص438، 447، شواہد النبوۃ، ص245

([6] )المھرجان، ص5تا9، اتحاف الاکابر، ص243

([7] )العقائد الصحیحہ، ص8تا12

([8] )تذکرہ علمائے ہند،ص239، تذکرہ علماء و مشائخِ پاکستان و ہند،ج 1،ص30، اخبار الاخیار فارسی، ص181

([9] ) حدائق الحنفیہ، ص483،خزینۃ الاصفیاء،ج 3،ص271، تذکرہ علمائے ہند،ص142

([10] ) تذکرہ علمائے اہلسنت،ص95، تذکرہ علمائے ہند، ص219، 222

([11] )شخصیاتِ سرحد، ص173، تذکرہ علماء و مشائخِ سرحد،ص167

([12] ) تجلیات تاج الشریعہ، ص122، مفتیِ اعظم ہند اور ان کے خلفاء،ص193، 198


Share