دور اندیشی(Far-sightedness)

کتابِ زندگی

دُور اندیشی ( Far-sightedness )

*مولانا ابورجب محمد آصف عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2023

ایک بادشاہ کی شکار گاہ میں کباب بنائے جا رہے تھے کہ نمک ختم ہوگیا۔ بادشاہ نے غلام کو قریبی گاؤں کی طرف نمک لینے بھیجا اور تاکید کی کہ قیمت دے کر لانا۔ غلام نے کہا : اتنا سا نمک مفت لینے سے کیا فرق پڑے گا ! دُور اندیش بادشاہ نے سمجھایا : پہلے دنیا میں ظلم کی بنیاد چھوٹی سی تھی پھر جو کوئی آیا اس پر اضافہ کرتا گیا ، اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اگر بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک سیب کھاتا ہے تو اس کے غلام جڑ سے درخت اُکھیڑ دیتے ہیں ، اگر بادشاہ آدھے انڈے کے لئے ظلم جائز رکھتا ہے تو اس کے سپاہی ہزاروں سِیخ پر مرغ کے کباب لگاتے ہیں۔ ( گلستانِ سعدی ، ص35ماخوذاً )

قارئین ! زندگی کو بہتر اور کامیاب کرنے میں کئی خوبیوں کا اہم کردار ہوتا ہے جن میں ایک دُور اندیشی بھی ہے۔ آج اسی موضوع پر بات ہوگی۔

دُور اندیشی کیا ہے ؟ دور اندیشی کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ انسان کوئی اہم کام کرنے سے پہلے اس کے مثبت اور منفی نتائج کے بارے میں اچھی طرح سوچ لے ، اس کے فائدے اور نقصان کو اچھی طرح پرکھ لے ، پھر اگر اس کام میں فائدہ ہو تو کرے ورنہ چھوڑ دے۔

دور اندیشی سے کام لینے کی نصیحت : ایک شخص نے نبیِّ کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عَرض کی کہ مجھے نصیحت فرمایئے ، تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : کام تدبیر سے اِختیار کرو ، پھر اگر اس کے اَنجام میں بھلائی دیکھو تو کر گزرو اور اگر گمراہی کا خوف کرو تو باز رہو۔ ( شرح السنۃ للبغوی ، 6/545 ، حدیث : 3494 )  یعنی جو کام کرنا ہو پہلے اس کا اَنجام سوچو پھر کام شروع کرو ، اگر تمہیں کسی کام کے اَنجام میں دینی یا دنیاوی خرابی نظر آئے تو کام شروع ہی نہ کرو اور اگر شروع کرچکے ہو تو باز رہ جاؤ اسے پورا نہ کرو۔ ( مراٰۃ المناجیح ، 6/626 ملخصاً )

دُور اندیشی کیسے حاصل ہو ؟ اللہ پاک نے انسان میں بےشمار اوصاف رکھے ہیں ، ہمیں صرف ان کو اپنے اندر تلاش کرنا اور نکھارنا ہے ، دُور اندیشی کی خوبی کو اپنے کردار کا حصہ بنانے کے لئے ان ٹِپس پر عمل کیجئے :

 ( 1 ) تاریخ پڑھئے : تاریخی حالات اور واقعا ت کا اس پہلو سے مطالعہ کیجئے کیونکہ تاریخ سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر بُزرگانِ دین کی سیرت میں ایسے واقعات مل جاتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنا حال اور مستقبل دونوں بہتر بناسکتے ہیں : جیسے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اونچی فیملی سے تعلق رکھنے والے چور کے حق میں کسی کی سفارش قبول نہ کرنا کہ چھوٹے لوگوں کو سزا دینا اور بڑے لوگوں کو چھوڑ دینا قوموں کو تباہ کردیتا ہے * ہجرتِ مدینہ کے موقع پر مہاجرین اور انصار صحابہ کے درمیان مواخاتِ مدینہ کا معاہدہ کروانا جس کی بدولت مہاجرین کو نئے علاقے میں خود داری کے ساتھ اپنے قدموں پر کھڑا ہونے میں مدد ملی * مسلمانوں میں مساوات کی ترویج کے لئے حجۃُ الوداع کے موقع پر یہ اعلان کرنا کہ فضیلت اور بَرتری کی بنیاد رنگت کا کالا یا گورا ہونا ، عربی یا عجمی ہونا نہیں بلکہ تقویٰ ہے * مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرتِ سیّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضرت سیّدُنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مشورے پر قراٰنِ پاک کوتحریری طور پر ایک جگہ جمع کردینا ایک ایسا کام تھا جس کے مثبت نتائج آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں * مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب کسی کو حکومتی نمائندہ بنا کر کسی علاقے میں بھیجتے تو انہیں عیش و آرام کے بجائے سادہ اندازِ زندگی اپنانے اور عوام سے الگ تھلگ نہ رہنے کی تاکید کرتے تاکہ حکومتی نمائندے اپنی عیش و عشرت کے بندوبست میں نہ لگے رہیں اور عوامی خدمت میں کوئی حرج واقع نہ ہو * حضرت سیّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں منکرینِ زکوٰۃ سے نرمی نہیں کی گئی ورنہ فرائض سے انکار کا راستہ کھل جاتا * شہیدِ کربلا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا یزید پلید کی بیعت نہ کرنا قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو سکھا گیا کہ جان جاتی ہے تو جائے مگر دینِ اسلام کی پاسداری کے لئے فاسق و ظالم کے سامنے ڈٹ جانا چاہئے۔

شوقِ مطالعہ رکھنے والوں کو اسی طرح کے بہت سارے واقعات مزید مل جائیں گے۔

 ( 2 ) تجربات سے مدد لیجئے : تجربہ اگرچہ پرانا ہوتا ہے لیکن کسی بھی نئے کام کو بہتر طریقے سے کرنے کے لئے مددگار ہوتا ہے۔ بعض تجربات انسان کے اپنے ہوتے ہیں اور کچھ دوسروں کے ! دونوں طرح کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔ ہر زبان میں کچھ نہ کچھ کہاوتیں اور محاورے ایسے ہوتے ہیں جو برسوں کے تجربے کا نچوڑ ہوتے ہیں ، اپنی لائف میں انہیں بھی پیشِ نظر رکھئے : جیسے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت  ( موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پچھتانے سے کیا حاصل ؟ )  جس کا کام اسی کو ساجے  ( جوکام کا ماہر ہو اسے وہی کرسکتا ہے ) ، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ، مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ، داموں ( پیسوں )  کا رُوٹھا باتوں سے نہیں مانتا ، تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو  ( جلد بازی نہ کرو ، کچھ وقت انتظار کرو ) ، ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ، اپنے دہی کو کون کھٹّا کہتا ہے ؟  ( اپنی چیز کو سب اچھا بتاتے ہیں ) ، ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ، دولت ڈھلتی پِھرتی چھاؤں ہے  ( دولت آنی جانی چیز ہے ) ، وقت سدا ایک سا نہیں رہتا ، سانچ کو آنچ نہیں ، سامان سو برس کا پَل کی خبر نہیں۔

 ( 3 ) غور و فکر کی عادت اپنائیے : کوئی بھی اہم نوعیت کا کام کرنے سے پہلے حسبِ حال غور و فکر کی عادت ہمیں دُور اندیش بنائے گی۔ لیکن غور و فکر کا سلیقہ بھی آنا چاہئے کہ نہ تو جلد بازی کرے اور نہ وہم میں مبتلا ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کرنے میں غیر معمولی تاخیر کرے۔ کس راستے سے دفتر جانا ہے اور کونسی ٹرین یا جہاز سے سفر کرنا ہے دونوں الگ الگ نوعیت کے کام ہیں ، ان پر غور و فکر بھی اسی حساب سے ہوگا۔

کن معاملات میں دُور اندیشی ضروری ہے ؟ ہماری زندگی کے بہت سے فیصلے دُور رَس نتائج کے حامل ہوتے ہیں جو اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور بُرے بھی ! چنانچہ اس قسم کے فیصلوں میں دُور اندیشی بہت ضروری ہے۔ جیسے

 * کوئی بھی لائف اسٹائل  ( جب کہ جائز بھی ہو )  اپنانا آپ کا حق ہے لیکن اس کا انتخاب کرتے وقت یہ جائزہ لے لینا چاہئے کہ کیا ہم اسے زیادہ عرصے تک افورڈ کرسکتے ہیں ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج تو لگژری لائف اسٹائل اپنا لیا بعد میں”چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات“ والا معاملہ ہوجائے اور دوبارہ پرانے لائف اسٹائل پر واپس آنا پڑے۔

 * مشہور ہے کہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا چاہئے ، اس لئے خرچ کرتے وقت اپنی آمدنی کو پیشِ نظر رکھیں ، اس کی تین صورتیں ممکن ہیں : آمدنی کم ہو اور خرچ زیادہ ، جتنی آمدنی اتنا خرچ ، آمدنی زیادہ ہو خرچ کم ، یہ تیسری صورت آئیڈیل ہے ، دوسری صورت گزارے لائق ہے اور پہلی صورت پریشان کرنے والی ہے۔

 * قرض لینا قدرے آسان لیکن اسے ادا کرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے وقتی آسانی کیلئے بِلادھڑک موٹی رقم قرض لینے سے پہلے حساب کتاب لگا لیجئے کہ کیا میں اسے وقت پر واپس بھی کرسکوں گا یا نہیں ؟ ادائیگی کا وقت آنے اور قرض خواہ کی طرف سے واپسی کا بار بار مطالبہ ہونے پر جو ٹینشن ہوگی ، وہ برداشت کرنا زیادہ مشکل ہوگا یا آج کی پریشانی کا سامنا کرنا ! پھر جو آپ کو بہتر لگے وہ کرلیجئے۔

 * مکان چاہے کرائے کا ہو اپنی حیثیت سے بڑھ کر نہیں لینا چاہئے کیونکہ آمدنی کا بڑا حصہ کرائے میں چلا جائے گا پھر بقیہ ضروریاتِ زندگی جیسے گھر کا راشن ، بجلی گیس وغیرہ کا بِل ، بچوں کے اسکولوں کی فیس ، بیماری کی صورت میں ڈاکٹروں کی فیس ، دوائیاں خریدنے وغیرہ کے لئے رقم پوری نہیں پڑے گی اور ٹینشن بڑھے گی ، اس لئے دور اندیشی کا تقاضا ہے کہ کم کرائے والا مناسب سا مکان لے کر بقیہ اخراجات کے لئے رقم بچالی جائے ، آگے آپ کی مرضی !

 * دوستی ، رشتہ داری اور تعلق داری اپنے ہم پلہ لوگوں سے کرنا دانش مندی ہے کیونکہ جب تحائف کا لین دین ہوگا ، ایک دوسرے کی دعوتیں ہوں گی ، تفریحی و معلوماتی سفر ایک ساتھ ہوں گے تو آپ ان کے معیار کو پہنچ نہیں سکیں گے کہ وہ تو آپ کی چھوٹی بچی کو سالگرہ پر سونے کی چین تحفے میں دیں اور آپ کسی موقع پر جواباً آرٹیفشل جیولری تحفے میں دے دیں پھر اس پر شرمندہ بھی ہوتے رہیں ، مشہور ہے : ”جو اونٹ پالتے ہیں وہ اپنے دروازے بھی اونچے رکھتے ہیں۔“ امید ہے اب آپ کو بات سمجھ آگئی ہوگی۔

 * ذریعۂ آمدنی وہ اختیار کرنا چاہئے جس کے تقاضوں پر پورا اُترا جاسکے ، اگر آپ ملازمت میں سہولت محسوس کرتے ہیں کہ جو کام مجھے دیا جائے میں صرف اس کو پورا کروں اور بَرئُ الذِّمّہ ہوجاؤں اور مہینے کی لگی بندھی تنخواہ پاؤں ، باقی معاملات دیکھنا دوسروں کا کام ہو تو آپ کو ملازمت ہی کرنی چاہئے اور اگر آپ کاروباری بننا اور زیادہ کمائی کرنا چاہتے ہیں تو اس کا مکمل نظام چلانے کی اہلیت ہونی چاہئے اور وقت بے وقت کی ٹینشن بھی برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔ مزید آپ خود سمجھدار اور بااختیار ہیں۔

 * کھانے پینے کی عادت کا آج نہیں تو کل صحت پر اثر پڑتا ہے۔ مشہور ہے : سو دوا کی اِک دوا پرہیز ہے ، اس لئے وہی کھائیے جو آپ کو صحت مند رکھے۔ فاسٹ فوڈ کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ دیکھے گئے ہیں ، اس لئے وقتی لذت کے لئے اپنی صحت کو داؤ پر نہ لگایا جائے ، پُرانے بوڑھوں سے سنا ہے کہ دودھ ، گوشت اور اصلی  ( دیسی )  گھی بچپن میں استعمال کیا ہو تو جوانی اور بڑھاپے میں جسم جاندار رہتا ہے ، اس طرح حکیم حضرات ”چ“ سے شروع ہونے والی تین چیزوں سے پرہیز کو مفید قرار دیتے ہیں : چینی ، چاول اور چکنائی۔ خوراک کے حوالے سے تفصیلی معلومات کیلئے فیضانِ سنّت جلد ایک میں شامل ”آدابِ طعام اور پیٹ کا قفلِ مدینہ“ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

 * ہوٹل ہو یا ہاسٹل یا گھر ہر وہ جگہ جہاں کچھ لوگ مل کر رہتے ہیں وہاں کچھ آداب اور اصول مقرر ہونے چاہئیں جن پر عمل سب کیلئے ضروری ہو۔ چنانچہ اگر گھر کے لئے یہ چند باتیں طے کرلی جائیں تو سبھی پریشانی سے بچ جائیں گے : * گھر کی غیر ضروری لائٹس بند کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہو * واش روم میں استعمال ہونے والا جوتا الگ ہو تو باہر سے جوتوں کے ساتھ لگ کر آنے والی مٹی اور کیچڑ واش روم کے فرش کو گندہ نہیں کرے گی * بائیک ، الماری وغیرہ کی ایکسٹرا چابیاں ، ازار بند اسٹک ، تولئے ، جوتے ، عینک ، ریمورٹ کنٹرول ، موبائل چارجر ، دوائیاں ، بال پوائنٹ یا پین ، سامان لکھنے کیلئے پیڈ وغیرہ رکھنے کے لئے جگہ خاص ہو پھر ان کو استعمال کرنے کے بعد اسی جگہ واپس رکھا جائے * جیب اجازت دے تو گھر کا راشن ہفتہ وار یا ماہانہ اکٹھا خرید لیا جائے ، ایک تو رقم کی کچھ نہ کچھ بچت ہوجائے گی اور دوسرا اس سے جھنجھٹ سے بچیں گے کہ صبح چینی ختم ہے تو شام کو پتی اور اگلے دن آٹا ختم ! یوں تھوڑی تھوڑی دیر بعد شاپ پر جانے کی پریشانی ہوگی * سونے جاگنے ، کھانے پینے ، پڑھنے پڑھانے کا ٹائم ٹیبل بناکر اس پر عمل کیا جائے تو کم وقت میں زیادہ کام ہوسکتا ہے ، جن گھروں میں رات کے ایک دو بجے تک جاگنے کا معمول ہوتا ہے ان کی فجر قضا ہونے کا رِسک بڑھ جاتا ہے اور ایسوں کے بچے اسکول وغیرہ میں پڑھنے کے بجائے اُونگھتے یا سوتے پائے جاتے ہیں جس کا نقصان واضح ہے۔

 * بچوں کی فرمائش پوری کرنا ماں باپ کی محبت کا تقاضا ہوتا  ہے لیکن فرمائش جب ضد میں بدل جائے تو سنبھل جانا چاہئے کہ ایک ضد پوری کی تو لائن لگ جائے گی ، آج بچہ کھلونا جہاز مانگ رہا ہے کل اصلی جہاز مانگے گا ، پھر آپ کیا کریں گے ؟ اسی طرح بچّوں کو چھوٹے بڑے کی تمیز سکھانا بھی ضروری ہے اگر آج وہ فیملی میں کسی بڑے کے سامنے زبان درازی کرے گا تو کل یا پرسوں آپ کی باری بھی آجائے گی ، بڑوں کے گھریلو جھگڑوں میں بچّوں کو حصہ دار نہیں بنانا چاہئے کہ آپ کی بعد میں صلح ہو بھی گئی تو بچوں کے ذہن سے وہ باتیں نکالنا آسان نہیں ہوتا کہ میرے فلاں رشتہ دار نے میری ماں یا باپ یا بڑے بھائی کو یہ کچھ بولا تھا۔ اسی طرح بچوں کو پہلی بدتمیزی ، چوری ، جھوٹ ، چغلی اور غیبت وغیرہ پر ہی روک دینا چاہئے ، فارسی کہاوت ہے :  ( ترجمہ )  چشمہ اُبلتے ہی سُرمَچو  ( یعنی سُرمہ لگانے کی سلائی )  سے اس کا منہ بند کیا جا سکتا ہے مگر جب اُمڈ پڑے تو پھر ہاتھی سے بھی بند نہیں کیا جاسکتا ، اسی طرح : گُرْبہ کُشْتن روزِ اوّل بَایَد یعنی ابتدا ہی میں بُرائی کا خاتمہ کردینا چاہئے۔ جو لوگ اپنے چھوٹے بچّوں کے ذریعے کسی مخالف کی باتیں پتا کرواتے ہیں وہ چغلی اور غیبت کی ٹریننگ دے کر خود ان کے اخلاق تباہ کررہے ہوتے ہیں ، ایسوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ وہ بچہ جو دوسروں کی باتیں آپ کو بتاتا ہے وہ آپ کی باتیں دوسروں کو بھی بتاسکتا ہے۔

 * ہر گھر اور دفتر میں کچھ نہ کچھ ڈاکومنٹس ہوتے ہی ہیں ، جیسے شناختی کارڈ ، پاسپورٹ ، چیک بُک ، ڈرائیونگ لائسنس ، اے ٹی ایم کارڈ ، موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ کے پاس ورڈ  ( بلکہ پاس ورڈ گھر کے قابلِ اعتماد شخص کو بھی نوٹ کروا دینے چاہئیں کہ آپ کے دنیا سے جانے کے بعد وارثوں کو پریشانی نہ ہو ) ، گاڑی ، مکان کے کاغذات ، تعلیمی سندیں ، بچوں کے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ ، برتھ سرٹیفکیٹ ، مکان کے کرائے یا ٹیکس ، قرض وغیرہ کی ادائیگیوں کی رسیدیں۔ ان کو حفاظت سے مخصوص جگہ رکھنا چاہئے تاکہ ضرورت پڑنے پر پریشانی نہ ہو بلکہ سبھی کی ایک ایک کاپی بھی دوسری جگہ محفوظ کردینی چاہئے یا اسکین کرواکر آن لائن ڈرائیو وغیرہ میں سیو کر دیجئے۔ اس طرح وہ ڈاکومنٹس جن کا گھر سے باہر نکلتے وقت جانا ضروری ہوتا ہے جیسے شناختی کارڈ ، بائیک یا کار کا لائسنس ، ڈرائیونگ لائسنس انہیں اپنے وائلٹ یا پرس وغیرہ میں رکھ لینا چاہئے۔ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ بازار یا سفر میں کوئی ایسی چیز ساتھ نہیں رکھتے پھر اللہ نہ کرے کوئی حادثہ ہوجائے اور وہ بےہوش ہوجائیں تو کوئی بتانے والا نہیں ہوتا کہ اس شخص کا نام پتا کیا ہے ؟

 * گھریلو آلات فریج ، اے سی ، گیس کا چولہا ، گیزر وغیرہ ہو یا بائیک اور کار ، جب ان کی ریپرئنگ کی حاجت ہو تو جلد کروا لینی چاہئے کیونکہ ممکن ہے شروع شروع میں فالٹ تھوڑا ہو پھر یہ بڑھ کر دوسرے پُرزوں کو بھی خراب کردے ، متعدد بائیک والوں کو دیکھا ہے کہ بریک ٹھیک نہیں کرواتے پھر تیز رفتاری بھی کرتے ہیں اور ایک وقت وہ آتا ہے کہ بریک نہ لگنے کی وجہ سے کسی ٹرک ، بس یا کار یا فٹ پاتھ وغیرہ سے جاٹکراتے ہیں اور اپنی ہڈیاں تڑوا لیتے ہیں ، کھال چِھلوا لیتے ہیں ، بعض اوقات تو کوما میں چلے جاتے ہیں جن میں سے کئی اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

 * دورِ جدید میں موبائل اسکرین ، ایل سی ڈی ، ٹیبلٹ وغیرہ کا استعمال بہت بڑھ چکا ہے جو آنکھوں اور دماغ وغیرہ کو نقصان بھی دے سکتا ہے۔ انہیں اگر احتیاط سے استعمال کیا جائے تو آنکھوں کی کئی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

 * کسی نیکی کو مشقت کی وجہ سے نہیں چھوڑنا چاہئے کیونکہ مشقت کا احساس ختم ہوجاتا ہے نیکی باقی رہے گی اسی طرح کبھی لذت کی وجہ سے بھی گناہ نہیں کرنا چاہئے کہ لذت ختم ہوجائے گی اور گناہ باقی رہے گا۔

اللہ پاک ہمیں گناہوں سے بچائے اور نیکیاں کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* اسلامک اسکالر ، رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ اسلامک ریسرچ سینٹر  ، کراچی


Share