Khof e Khuda Ke Fayde

Book Name:Khof e Khuda Ke Fayde

جو لوگ تھے، وہ کون تھے؟ اللہ پاک فرماتا ہے:

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِۙ- (پارہ:2، البقرۃ:249)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: جو اللہ سے ملنے کا یقین رکھتے تھے۔

سُبْحٰنَ اللہ! یہ وہ لوگ تھے جن کے دِل میں قیامت کا یقین تھا، بارگاۂ اِلٰہی میں حاضِری کا مَنْظَر ان کے خیالات پر چھایا ہوا تھا، یہ خوفِ خُدا رکھنے والے تھے، اللہ پاک سے ڈرنے والے تھے، اس موقع پر انہوں نے کیسی ہمّت دِکھائی، بولے:

كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۲۴۹) (پارہ:2، البقرۃ:249)

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بہت دفعہ چھوٹی جماعت اللہ کے حکم سے بڑی جماعت پر غالِب آئی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

یعنی اے لوگو! ہم 313 ہیں تو کیا ہوا...!! جالُوت کا لشکر بڑا اور طاقتور ہے تو کیا ہوا...؟ تم ہمت مت ہارو! ہم اللہ پاک کے بندے ہیں، اللہ پاک اپنی قُدرت سے بہت مرتبہ چھوٹے لشکر کو بڑے بڑے لشکروں پر فتح عطا فرما دیتا ہے، لہٰذا ہمت سے کام لَو...!!

اُن کی یہ نصیحت اَثَر کر گئی، پِھر دُنیا نے دیکھا کہ اُسی 313 کے مختصر سے لشکر نے جالُوت کے ہزاروں کے لشکر کو زبردست اور تاریخی شکست سے دوچار کر دیا۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! یہاں دیکھئے! ان 313 میں یہ جو باہمت لوگ تھے، بڑے حوصلے والے لوگ تھے، اللہ پاک نے خصوصیت کے ساتھ ان کا یہ وَصْف بتایا کہ یہ اللہ پاک کے حُضُور حاضِری کا یقین رکھنے والے لوگ تھے، خوفِ خُدا والے لوگ تھے، اسی خوفِ خُدا نے انہیں بہت باہمت اور بلند حوصلے والا بنا دیا تھا، اسی کی بَرَکت سے انہوں نے


 

 



[1]... تفسیر خازن، پارہ:2، سورۂ بقرۃ، زیر آیت:249، جلد:1، صفحہ:182 و183 خلاصۃً۔