Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba
اس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے پچھلی قوموں کا ذِکْر فرمایا کہ وہ لوگ جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، وہ لمبی اُمِّیْدوں میں پڑے، جس کے سبب اُن کے دِل سخت ہو گئے، پس اے مسلمانو! اے مَحْبُوبِ ذِیْ وقار، مکّی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے سچّے غُلامو! تم ہر گز اُن اَہْلِ کتاب جیسے مَت ہو جاؤ! بلکہ لمبی اُمِّیدوں سے بھی بچو! اور اپنے دِل کی بھی خوب حِفاظت کرو...!!
اے عاشقانِ رسول ! ہمارا دِل سب سے قیمتی تختی ہے، اسے گُنَاہوں سے پاک کرنا مَطْلُوْبِ دِین ہے، یہی اِصْلاح کا راز ہے، اسی سے آدمی سَنورتا ہے، اسی سے کام بنتے ہیں۔ اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اَلَاۤ وَ اِنَّ فِيْ الْجَسَدِ مُضْغَةً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، اَلَاۤ وَهِيَ الْقَلْبُ سُن لو! بےشک جسم میں خون کا ایک لَوتھڑا ہے، جب وہ ٹھیک ہو جائے، تمام جسم ٹھیک ہو جاتا ہے اور جب وہ لَوتھڑا بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، سُن لو! وہ لَوتھڑا دِل ہے۔([1])
اس حدیثِ پاک کی شرح میں عُلَما فرماتے ہیں: بندے کے تمام کام اُس کے دِل سے وابستہ ہیں، اگر دِل پاک صاف ہو *اس میں اللہ پاک کی محبّت ہو، اللہ پاک کے مَحْبُوب بندوں کی محبّت ہو *دِل میں اللہ پاک کا اور اس کی نافرمانی کا خوف ہو تو بندے کے تمام کام دُرُست ہو جاتے ہیں، بندہ گُنَاہوں سے بچنے لگتا ہے بلکہ گُنَاہ میں پڑنے کے خوف سے شُبْہَات سے بھی بچنے لگتا ہے اور اگر دِل بگڑ جائے، دِل نفسانی خواہشات کا پیروکار