Dil Ki Sakhti Ka Waba

Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba

تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور  پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گِر پڑتے ہیں

یعنی پہاڑوں میں خوفِ خُدا بھی ہوتا ہے اور اس حَد کا ہوتا ہے کہ خَوف کے سبب اُن سے نہریں بہہ نکلتی ہیں، پہاڑ پھٹ جاتے ہیں، بعض پہاڑوں کی  بڑی بڑی چٹانیں خَوفِ خُدا کے سبب لُڑھک کر نیچے گِر جاتی ہیں۔

شکر گزار پتھر

امام ابو القاسِم قُشَیْری رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ لکھتے ہیں:اللہ پاک کے ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کہیں سے گزر رہے تھے، آپ نے راستے میں ایک چھوٹا سا پتھر دیکھا،اس میں سے مسلسل پانی نکل رہا تھا، بڑے پہاڑ میں سے چشمہ جاری ہونا معمول کی بات ہے مگر چھوٹے سے پتھر سے پانی نکلنا اور مسلسل نکلتے رہنا یہ حیرانی کی بات ہے، اللہ پاک کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو پتھر سے پانی نکلتا دیکھ کر تعجب ہوا تو اللہ پاک نے اس پتھر کو بَولنے کی طَاقَت عطا فرمائی، پتھر نے عرض کیا: اے اللہ پاک کے نبی عَلَیْہِ السَّلَام! جب سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ جہنّم کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اُس وقت سے میں خوفِ خُدا کے سبب رو رہا ہوں، آپ عَلَیْہِ السَّلَام جو پانی مجھ سے نکلتا دیکھ رہے ہیں، یہ پانی نہیں بلکہ میرے آنسو ہیں جو خوفِ خُدا کے سبب بہہ رہے ہیں۔ پتھر کی یہ درد بَھری بات سُن کر اُن نبی عَلَیْہِ السَّلَام کو رحم آیا، آپ نے ہاتھ اُٹھائے، اللہ پاک کی  بارگاہ میں دُعا کی: یا اللہ پاک! اس پتھر کو جہنّم کی آگ سے محفوظ فرما دے۔ اللہ پاک نے آپ کی دُعا قبول فرمائی اور فوراً ہی وحی بھیجی کہ ہم نے اس پتھر کو جہنّم کی آگ سے آزاد