Book Name:Dil Ki Sakhti Ka Waba
کرو! وَلَوْ مِنْ عَضَاہِہٖ اگرچہ اُحُد پہاڑ پر اُگنے والے درخت کے صِرْف کانٹے ہی ملیں (برکت کے لئے وہی چَبا لیا کرو!)۔ ([1])
علّامہ مُناوی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: کانٹے چَبانے کی چیز نہیں، انہیں چَبانے کے لئے بہت مشقت اُٹھانی پڑے گی، فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کا مطلب یہ ہے کہ اُحُد پہاڑ جو بابرکت ہے، اس سے نسبت رکھنے والے درختوں سے بَرَکت اگر آسانی سے نہ لے سکو تو خود کو مشقت میں ڈال کر بھی بَرَکت حاصِل کرو ! ([2])
جس کے جلوے سے اُحُد ہے تاباں، معدنِ نُور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قُرباں دِلِ سنگیں کی جِلا کرتے ہیں([3])
وضاحت: یعنی وہ ماہِ طیبہ، بی بی آمنہ رَضِیَ اللہُ عنہا کے مبارَک چاند یعنی مکّے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جن کے جلووں سے اُحُد پہاڑ چمک رہا ہے، اس کا دَامَن نُور کی کان بنا ہوا ہے، ہم بھی اُن ماہِ طیبہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر قربان ہو کر، اُن کے عشق کے ذریعے سختئ دِل کا عِلاج کرتے ہیں۔
بہر حال! اس سے پتا چلا کہ پہاڑوں میں بھی شُعُور ہوتا ہے، البتہ اس کی ہمیں خبر نہیں ہوتی۔ یہ شعور کس حَدْ کا ہوتا ہے، کس کس طرح کا ہوتا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُ جُ مِنْهُ الْمَآءُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ- (پارہ:1، البقرۃ:74)